خرچہ چاہیے تو سیکس سے گریز کریں

Image caption عدالت میں یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کوئی خاتون بدکاری کر رہی ہے یا نہیں

حال ہی میں جنوبی بھارت کی ایک عدالت نے ایک فیصلہ دیا ہے جس کے مطابق اگر ایک خاتون کو کسی دوسرے مرد سے جنسی تعلق کی وجہ سے طلاق ہو جاتی ہے تو وہ اپنے سابق شوہر سے نان نفقے کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔

ہو سکتا ہے کہ مدراس ہائی کورٹ کے جسٹس ایس ناگاموتھو کا یہ فیصلہ قانونی طور پر درست ہو، لیکن خواتین کے حقوق کی کچھ علم برداروں کا کہنا ہے فیصلے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ پریشان کن ہے۔

ذیل میں دہلی سے بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے نے اس بحث کا جائزہ لیا ہے۔

جسٹس ناگاموتھو کے اس فیصلے نے انڈیا میں بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا ہے کہ طلاق کے بعد اگر کوئی خاتون سابق شوہر سے خرچ کا مطالبہ کرتی ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے ’دائرے میں رہے۔‘ دوسرے الفاظ میں مطلقہ خاتون کے لیے ضروری ہے کہ وہ طلاق ہو جانے کے بعد بھی کسی دوسرے شخص سے جنسی تعلق نہ جوڑے۔

جسٹس ناگاموتھو کا کہنا تھا کہ بھارتی قانون کے مطابق کسی ایسی بیوی کو نان نفقے کا حق نہیں دیا جا سکتا جو ’حرام کاری کی زندگی بسر کر رہی ہو۔‘

ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق چونکہ ماضی میں ملک کی ایک فیملی کورٹ ایک خاتون کو طلاق کا حق دینے کے بعد یہ تسلیم کر چکی ہے کہ کانیموزہی (فرضی نام) نامی خاتون شادی کے بغیر جنسی تعلق قائم کر چکی تھی، اس لیے مدراس مقدمے میں بھی خاتون اپنے سابقہ شوہر سے نان نفقے کا مطالبہ قطعاً نہیں کر سکتی۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی کیونکہ مذکورہ فیصلے کا اطلاق کا دائرہ اس سے زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔ جج نے اپنے فیصلے میں یہ اصرار بھی کیا ہے کہ طلاق کے بعد اگر خاتون نان نفقہ لینا چاہتی ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ جنسی تعلق سے مکمل پرہیز رکھے۔

جسٹس ناگاموتھو نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’طلاق کا فیصلہ ہو جانے کے بعد بھی اگر خاتون چاہتی ہے کہ وہ اپنے سابقہ شوہر سے خرچہ لیتی رہے تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسی فرمانبرداری کا مظاہرہ کرے اور اسی دائرے میں رہے جس کی توقع اس سے شادی کے دوران کی جاتی تھی۔‘

’دوسرے الفاظ میں نان نفقے کی مدت کے دوران خاتون بدکاری کی زندگی نہیں گزار سکتی اور اگر وہ بدکاری کی زندگی گزارتی ہے تو وہ اپنے سابقہ شوہر سے نان نفقے کا حق کھو بیٹھے گی۔ اسی طرح اگر وہ طلاق کے بعد بھی جنسی تعلقات کے لحاظ سے دائرے میں رہتی ہے، تو اسے نان نفقے کا حق حاصل رہے گا۔‘

’اگر وہ اس وعدے کا لحاظ نہیں رکھتی اور بدکاری کی زندگی اختیار کر لیتی ہے، یعنی کسی دوسرے مرد سے جنسی تعلق جوڑ لیتی ہے، تو وہ نان نفقے کے حق سے محروم ہو جائے گی۔‘

کانیموزھی کا معاملہ

کانیموزہی کے معاملے میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جن حالات میں طلاق کی اجازت دی گئی تھی ان حالات پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’اگر خاتون ایک مرد کے ساتھ اکیلی پائی جاتی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ دونوں کمرے میں بیٹھے بائبل تو نہیں پڑھ رہے تھے‘

فیملی کورٹ کا یہ فیصلہ دوسرے فریق کی عدم موجودگی میں دیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس مقدمے میں کانیموزہی کبھی بھی عدالت نہیں آئیں اور انھوں نے یہ مقدمہ لڑا ہی نہیں تھا۔

اطلاعات یہ ہیں کہ کانیموزہی خاصی غریب خاتون تھیں۔ نہ تو انھیں بھارتی قانون کی موشگافیوں کا علم تھا اور نہ ہی ان کے پاس اتنے پیسے تھے کہ وہ کسی وکیل کی خدمات حاصل کرتیں۔

قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ عدالت میں یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کوئی خاتون بدکاری کر رہی ہے یا نہیں، اور اگر کانیموزہی مقدمے کے شروع ہی میں کسی اچھے وکیل کی خدمات حاصل کر لیتیں تو ان پر یہ الزام ثابت نہیں کیا جا سکتا تھا۔

کانیموزہی کے معاملے سے منسلک رہنے والے ایک وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت میں یہ بات بالکل ثابت نہیں کی جا سکی تھی کہ کانیموزہی کے کسی مرد سے جنسی تعلقات قائم ہو چکے تھے۔

آج بھارت میں کئی لوگوں کا خیال ہے کہ کانیموزہی کو انصاف نہیں ملا تھا۔

واقعاتی شہادت

طلاق کے مقدمات کے معروف وکیل بربھجیت جوہر کہتے ہیں کہ بھارت کے بڑے شہروں میں رہنے والے امیر لوگوں کے پاس ایسے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ اپنے شوہر یا بیوی پر نظر رکھنے کے لیے نہ صرف مخبروں یا جاسوسوں کی خدمات مستعار لے سکتے ہیں بلکہ وہ تصویری ثبوت بھی اکٹھے کر سکتے ہیں اور موبائل فون کے ریکارڈ سے بھی ثبوت جمع کر کے عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔

لیکن اس کے باجود عدالت میں جنسی تعلقات کو ثابت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور ایسے میں عدالت کو واقعاتی شہادتوں ہی پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔

مسٹر جوہر کے بقول ’ایک مقدمے میں دہلی کی ہائی کورٹ نے جنسی تعلقات کا الزام اس بات پر تسلیم کر لیا کہ اگر کوئی خاتون کسی مرد کے ساتھ کمرے میں اکیلی پائی جاتی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ دونوں کمرے میں بیٹھے بائبل تو نہیں پڑھ رہے تھے۔ اسی طرح ایک دوسرے مقدمے میں ایک خاتون کو اس بنیاد پر بدکار تسلیم کر لیا گیا کہ وہ رات گئے ایک مرد سے باتیں کرتی رہتی تھی۔‘

نان نفقے کا قانون کیا کہتا ہے؟

بھارت کے قانون (سی آر پی سی) کی شق نمبر 125 میں واضح لکھا ہے کہ درج ذیل تین صورتوں میں ’بیوی‘ کو نان نفقے کا حق حاصل نہیں رہے گا:

  • اگر وہ بدکاری کی زندگی گزار رہی ہے
  • اگر وہ کوئی واضح وجہ بتائے بغیر شوہر کو چھوڑ جاتی ہے
  • اگر میاں بیوی اپنی باہمی رضامندی سے ایک دوسرے سے الگ رہنا شروع کر دیتے ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک خاتون کو اس بنیاد پر بدکار تسلیم کر لیا گیا کہ وہ رات گئے ایک مرد سے باتیں کرتی رہتی تھی

بھارت میں خواتین کے حقوق کے علم برداروں کا کہنا ہے کہ مدراس ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ بہت خوفناک ہے اور یہ کسی وعظ سے کم نہیں۔

معروف سماجی کارکن کویتا کرشنا کہتی ہیں کہ ’اگر کوئی جج صرف یہ کہتا ہے کہ جنسی تعلق کی صورت میں خاتون نان نفقے سے محروم ہو جائے گی، تو بات سمجھ آتی ہے۔ لیکن جج کا یہ کہنا کہ طلاق ہو جانے کے بعد بھی خاتون جنسی تعلق سے پرہیز رکھے، یہ ایک بالکل الگ بات ہے۔

’جج نے اپنے فیصلے میں یہ کہا ہے کہ مذکورہ خاتون اس مرد سے خرچہ پانی لے جس کے ساتھ وہ ’بدکاری‘ کر رہی ہے۔ آپ نان نفقے یا طلاق کے بعد کے خرچہ پانی کو جنسی تعلق سے کیسے جوڑ سکتے ہیں؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ جس بھی مرد کے ساتھ سوئیں اس سے پیسے لینا شروع کر دیں۔

’صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ باتیں مرد وں کی برتری اور عورتوں کے خلاف معاشرتی خیالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر مذکورہ خاتون اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتی ہے تو یقیناً وہ مقدمہ جیت جائے گی۔‘

اسی بارے میں