چینی بازارِ حصص میں بدستور مندی، مزید ڈیڑھ فیصد کی کمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چین کے بازار میں مندی سے عالمی پیمانے پر تشویش پائی جاتی ہے

چین کے مرکزی بینک کی جانب سے اپنی معیشت کو استحکام دینے کے لیے شرح سود میں کمی کے باوجود چین کا بازار حصص بدھ کو بھی کاروبار کے اختتام تک مندی کا شکار رہا ہے۔

بدھ کو شنگھائی کا بازارِ حصص مندی اور تیزی کے ملے جلے رجحانات دکھانے کے بعد گذشتہ روز کی تجارت کے مقابلے مزید تقریباً ڈیڑھ فی صد کی کمی کے بعد 2927.29 پر بند ہوا۔

اس ہفتے چین کے اس مرکزی بازارِ حصص میں پہلے ہی تقریباً 16 فی صد کی کمی آ چکی ہے جس کی وجہ سے عالمی بازار میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی تھی۔

چین کے بازار میں ڈرامائی گراوٹ اور خسارے کی وجہ سے صارفین کے اعتماد کو دھچکہ لگا تھا اور گذشتہ چند دنوں کے دوران ایشیائی بازار حصص کے علاوہ امریکہ اور یورپ میں بھی مندی نظر آئی تھی۔

منگل کو پیپلز بینک آف چائنا نے بازارِ حصص میں جاری مندی کے بعد اپنے لینڈنگ ریٹ (شرح قرض) میں 0.25 فیصد کی کمی کی جس کے بعد یہ شرح 4.6 فیصد ہوگئی تھی۔

پیپلز بینک آف چائنا نے گذشتہ نومبر سے شرح سود میں پانچویں بار کمی کی ہے اور حالیہ کمی کا اطلاق بدھ سے ہو گا۔

ابتدائی ٹریڈنگ میں ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈکس میں چین کے مقابلے قدرے بہتری دیکھی گئی ہے۔

چین کے شیئر میں ایک سال تک متواتر قرض لے کر شیئر خریدنے کا رجحان رہا جو کہ رواں سال جون میں ختم ہو گیا۔

اس کے بعد حکومت معاشی ترقی کی رفتار کو جاری رکھنے کے لیے بازار میں اتر آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور باقی دنیا پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں

دو ہفتے قبل چین کے سنٹرل بینک نے چین کی کرنسی یوان کی قدر میں کمی کی تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو لیکن اس کی وجہ سے چین کی معیشت کے بارے میں مزید خدشات پیدا ہوئے کہ کہیں اس کی حالت اندازے سے زیادہ خستہ تو نہیں۔

صارفین اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ جو کمپنیاں چین پر زیادہ انحصار کرتی ہیں وہ اس رجحان سے متاثر ہوں گی کیونکہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور سامان تجارت اور تجارتی خدمات برآمد کرنے میں بھی دوسرے نمبر پر ہے۔

دوسرے ایشیائی ممالک کے بازار حصص میں قدرے بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ جاپان کا نیکیی 255 بدھ کو تقریبا ایک فی صد اوپر گیا ہے۔ نیکیی کے بازار میں ایک ہفتے بعد اضافہ دیھکا گیا ہے کیونکہ گذشتہ ہفتے اس میں آٹھ فی صد سے زیادہ کی مندی آئی تھی۔

جنوبی کوریا کے کوپسی انڈکس میں بھی ایک فی صد کا اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ آسٹریلیا کے بازار حصص میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا ہے۔

گذشتہ رات امریکہ اور یورپ کے بازار حصص میں نشیب و فراز دیکھا گیا۔

وال سٹریٹ کا ڈاو جونز 1.3 فی صد کم پر بند ہوا جبکہ لند کے فٹسی 100 انڈکس تین فی صد کے اضافے پر بند ہوا۔

ان دونوں کے علاوہ جرمنی اور فرانس کے بازار میں چار فی صد کا اضافہ رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس دیکھا جا رہا ہے

بھارتی بازار حصص میں بھی مندی

بھارت میں پیر کو سینسیکس میں ایک ہزار پوائنٹس سے بھی زیادہ کی گراوٹ کے بعد منگل کو اضافہ دیکھا گیا تھا لیکن پھر بدھ کو حصص بازار پھر سے 300 سے زیادہ پوائنٹس نیچے گر گیا ہے۔

ابتدائی رجحانات میں مندی 1.20 فی صد درج کی گئی۔

جبکہ 50 انڈکس والے قومی سٹاک ایکسچینج نفٹی میں 84.55 پوائنٹس کی گراوٹ نظر آئی ہے جو کہ 1.07 فی صد کمی کے ساتھ 7796.15 پوائنٹس پر کاروبار کر رہا ہے۔

بامبے سٹاک ایکسچینج میں 312.59 پوائنٹس کی مندی دیکھی گئی۔

پیر کو بھارتی اسٹاک مارکیٹ کے آخری سیشن میں پانچ فی صد تک کی کمی دیکھی گئی اور سینسیکس میں تقریبا 1400 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی اور نفٹي 7،900 کی سطح سے نیچے چلا گیا تھا۔

اس کے بعد بھارتی ریزرو بینک کے گورنر رگھو رام راجن نے کہا کہ ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی کو ہینڈل کرنے کے لیے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ تقریبا دو سالوں میں پہلی بار بھارتی روپے ڈالر کے مقابلے 66 کے ہندسے کے پار چلا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں چین کے بازار حصص کے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں

اسی بارے میں