گجرات فسادات میں تین ہلاک، مودی کی پرامن رہنے کی اپیل

Image caption تشدد کے دوران ریاست میں دس پولیس چوکیوں کو آگ لگائی گئی جبکہ ریاست اور مرکز میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفاتر پر بھی حملے کیے گئے

بھارتی ریاست گجرات میں بدھ کو پٹیل برادری کے احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات میں مزید ایک شخص کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد تین ہوگئی ہے جبکہ ریاستی دارالحکومت احمد آباد میں بھی فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی آبائی ریاست کے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’تشدد سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور آگے بڑھنے کا واحد طریقہ پرامن مذاکرات ہیں۔‘

ریاست میں منگل کو پٹیل برادری کو بہتر تعلیم اور ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی تحریک کی قیادت کرنے والے نوجوان ہاردک پٹیل کی گرفتاری اور رہائی کے بعد کئی علاقوں میں پرتشدد واقعات پیش آئے تھے۔

بی بی سی ہندی کے نامہ نگار انکُر جین کے مطابق گجرات کے ڈائریکٹر جنرل پولیس سی ٹھاکر کا کہنا ہے کہ ضلع بناس كانٹھا میں بدھ کو مشتعل افراد نے ایک تھانے پر حملہ کیا اور اس دوران پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

انھوں نے منگل کو احمد آباد میں بھی مظاہروں کے دوران پولیس کی فائرنگ میں دو لوگوں کی موت کی تصدیق کی۔

پولیس افسر کے مطابق، بدھ کو ریاست میں صورتحال کنٹرول میں ہے اور ’تمام سینیئر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے لوگوں سے قانون کو ہاتھ میں نہ لینے اور افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی ہے۔‘

کشیدہ حالات کے پیش نظر احمد آباد کے نو اور سورت کے دو تھانے کے حدود سمیت ریاست میں 17 مقامات پر احتیاطاً کرفیو لگایا گیا ہے۔

احمد آباد میں بدھ کو فوج تعینات کر دی گئی ہے جبکہ سورت اور مہسانا میں گذشتہ سب سے ہی فوجی دستے گشت کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ریاست کے دیگر کئی علاقوں میں نیم فوجی دستوں کے جوانوں نے سکیورٹی کے فرائض سنبھال لیے ہیں۔

گجرات میں پر تشدد واقعات کے پیش نظر انتظامیہ نے ریاست کے تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔

پٹیل کمیونٹی نے بدھ کو گجرات بھر میں ہڑتال کی اپیل کی تھی اور بی بی سی ہندی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ احمد آباد شہر اس اپیل پر مکمل طور پر بند ہے اور شہر میں انٹرنیٹ سروس اور موبائل فون سروس دوسرے دن بھی معطل ہے جبکہ سکول، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ کا نظام بند پڑا ہے۔

منگل کو پٹیل تحریک کے حامیوں نے تقریباً 50 بسوں اور دیگر گاڑیوں کو آگ لگائی تھی جس کے بعد تشدد میں اضافے کو روکنے کے لیے حکومت نے موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کو بند کر دیا تھا۔

ریاستی وزیر اعلی اندي بین پٹیل نے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے لوگوں سے ایسے کام نہ کرنے کی اپیل کی ہے جس سے ریاست میں حالات بگڑیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ریاست کے کئی علاقوں میں نیم فوجی دستوں کے جوانوں نے سکیورٹی کے فرائض سنبھال لیے ہیں

منگل کو تشدد کے دوران ریاست میں دس پولیس چوکیوں کو آگ لگائی گئی جبکہ ریاست اور مرکز میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفاتر پر بھی حملے کیے گئے۔ اس کے علاوہ ممبئی اور دہلی ہائی وے کو متعدد مقامات پر جام کر دیا گیا جس سے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

واضح رہے کہ احمد آباد میں منگل کو پٹیل کمیونٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ اس مظاہرے کی سربراہی 21 سالہ پٹیل برادری کے نوجوان رہنما ہاردک پٹیل کر رہے تھے۔

اس مظاہرے میں شامل افراد اور پولیس کے درمیان کئی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں جبکہ پولیس نے صورت حال کو کنٹرول میں کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق نریندر مودی خود تین مرتبہ گجرات کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں اور پٹیل برادری کا ریزرویشن کا مطالبہ ان کے لیے سخت سیاسی مشکلات پیدا کر سکتا ہے کیونکہ یہ لوگ روایتاً بی جے پی کی حمایت کرتے رہے ہیں لیکن اب اچانک ایک مطالبہ منوانے کے لیے متحد ہوگئے ہیں جسے حکومت کے لیے نہ منظور کرنا آسان ہوگا نہ مسترد۔

اسی بارے میں