ہریانہ میں بھارت میں خواتین کا پہلا تھانہ

Image caption یہاں خواتین کی طرف سے زیادہ تر شکایات جنسی طور پر ہراساں کرنے اور تعاقب کرنے کے بارے میں آتی ہیں

بھارت کی شمالی ریاست ہریانہ ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں خواتین کے پولیس سٹیشن قائم کیے جا رہے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کے مطابق ہریانہ وہ پہلی بھارتی ریاست بن جائے گی جس کے ہر ضلعے میں خواتین کے خلاف جرائم سے نمٹنے کے لیے خواتین پولیس سٹیشن قائم کیے جائیں گے۔

گڑگاؤں کے مصروف شہر کے سیکٹرفائیو میں ایک دو منزلہ عمارت پر نیا رنگ کیا گیا ہے، بتیاں، پنکھے اور ٹیلی فون لائنیں لگادی گئی ہیں۔ عمارت کے لیے نئے پردے، کمپیوٹر، سٹیشنری اور پانی کے کولر کا حکم دے دیا گیا ہے۔

اس عمارت میں اس سے پہلے ٹریفک پولیس کا دفتر قائم تھا جہاں اب جمعے کو گڑگاؤں میں خواتین کے پہلے پولیس سٹیشن کا افتتاح ہو گا۔

گڑگاؤں کے پولیس کمیشنر نودیپ سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہاں خواتین کے لیے تمام سہولتیں ایک چھت کے نیچے دستیاب ہوں گی۔‘

انھوں نے کہا: ’ہم نے سپاہیوں کی نشاندہی کر لی ہے، یہ ایک 27 رکنی ٹیم ہوگی جس کی سربراہی ایک انسپکٹر کریں گی۔ ہمارے پاس غیر سرکاری تنظیموں کے کارکن اور مشیر ہوں گے جو قانونی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بحالی کے کاموں میں بھی مدد کریں گے۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال اور فسادات سے نمٹنے کے لیے 50 خواتین پولیس اہلکار بھی موجود ہوں گی جن کو امن و امان کی خراب صورت حال میں استعمال کیا جائے گا۔‘

انسپکٹر اومیش بالا کو گڑگاؤں میں پولیس سٹیشن کی قیادت کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ 30 سال سے خاتون پولیس افسر کی حیثیت سے دبنگ ساکھ کی حامل ہیں۔ انھیں خواتین کے خلاف جرائم سے نمٹنے کا طویل تجربہ ہے اور وہ پولیس کی جانب سے مصیبت کا شکار خواتین کی مدد کے لیے شروع کی جانے والی ہیلپ لائن کی نگران بھی رہ چکی ہیں۔

Image caption اس عمارت میں اس سے پہلے ٹریفک پولیس کا دفتر قائم تھا جہاں اب جمعے کو گڑگاؤں میں خواتین کے پہلے پولیس سٹیشن کا افتتاح ہو گا

وہ کہتی ہیں: ’ہمیں یہاں خواتین کی طرف سے زیادہ تر شکایات جنسی طور پرہراساں کرنے اور تعاقب کرنے کے بارے میں آتی ہیں۔ اکثر ملزمان مجھے کہتے ہیں: ’وہ میری دوست تھی،‘ اور میں انھیں جواب دیتی ہوں لیکن اب وہ نہیں ہے تو اس کی جان چھوڑو۔ وہ تمھاری جائداد نہیں ہے۔‘

گڑگاؤں بھارت کو بھارت کا ’ملینیئم سٹی‘ کہا جاتا ہے۔ حالیہ کچھ سالوں میں یہ ایک زرعی قصبے سے تبدیل ہو کے ٹیکنالوجی کا مرکز بن گیا ہے اور اب یہ کارپوریٹ دفاتر، کال سینٹرز اور آؤٹ سورسنگ کی صنعتوں کاگڑھ ہے۔

تاہم یہاں لوگوں کے رویے انتہائی سست روی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور اب بھی ریاست کے کئی حصے دیہاتی زندگی بسر کر رہے ہیں، جہاں روایت اور جدت ایک ساتھ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ریاست کا اکثر حصہ بقیہ بھارت کی طرح پدرانہ نظام میں جکڑا ہوا ہے۔ پورے بھارت میں سب سے خراب صنفی تناسب یہاں ہے، اور نسلی اور صنفی امتیاز عام ہے۔

عورتوں کے خلاف جرائم کی شرح مسسل بڑھ رہی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ریاست میں خواتین کے خلاف 8974 مقدمات درج ہوئے، جس میں 1174 زیادتی، 230 اجتماعی زیادتی اور جہیز کے لیے ہراساں کرنے کے 3501 مقدمات شامل ہیں۔

مارچ میں ریاست کی حکومت کو خواتین کے تحفظ کے مسئلے پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے اسمبلیوں میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس کے ناروا رویے کے باعث لوگوں میں پولیس پر اعتماد کی کمی ہے۔ قومی کمیشن برائے خواتین کے مطابق اپریل میں انھیں سینکڑوں شکایات ملیں کہ جہاں پولیس کی بے حسی کے باعث متاثرہ خواتین شکایات درج نہیں کروا سکیں۔

Image caption گڑگاؤں کے پولیس کمیشنر نودیپ سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہاں خواتین کے لیے تمام سہولتیں ایک چھت کے نیچے دستیاب ہوں گی‘

بھارت کی پولیس فورس میں خواتین کی تعداد انتہائی کم ہے۔ دولت مشترکہ کی انسانی حقوق کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت کی 23 لاکھ پولیس فورس میں خواتین صرف 6.11 فیصد ہیں۔

گڑگاؤں کے کمشنر خواتین اہلکاروں کی کمی سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’گڑگاؤں میں صرف 350 خواتین پولیس اہلکار موجود ہیں، ہمیں کم سے کم ایک ہزار کی ضرورت ہے۔‘

ان کو یقین ہے کہ نئی خواتین کے لیے مخصوص پولیس سٹیشن سے یہ سوچ بدلے گی کہ پولیس صنفی بے حسی کا شکار ہے۔

انسپکٹر بالا کو اس بات سے اتفاق ہے کہ ’ابھی بھی بہت ساری خواتین پولیس سٹیشن جانا نہیں چاہتیں۔ وہ ہمیں اپنے مسائل بتانے میں زیادہ آرام محسوس کریں گی ، وہ کسی شرم یا جھجک کے بغیر ہم سے بات کر سکتی ہیں۔‘

اپنے ماضی کے تجربے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اکثر خواتین کی جانب سے ان سے رابطہ کر کے ان کی شکایات کی تفتیش کے لیے اصرار کیا جاتا تھا۔

’لیکن میں صرف وہی کیس لے سکتی تھی جو مجھے دیا جاتا تھا مگر اب صورت حال بالکل مختلف ہوگی۔‘

اسی بارے میں