بھارت: بنیاد پرستی کے مخالف ماہرِ تعلیم کا قتل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈاکٹر کلبرگی کے قتل کی خبر سے كرناٹك كے مصنف اور ماہرینِ تعلیم نہ صرف حیران ہیں بلکہ فکر مند بھی ہیں

بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک میں یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور دانشور ایم ایم كلبرگي کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق بنیاد پرستی کے مخالف سمجھے جانے والے 77 سالہ ڈاکٹر ایم ایم كلبرگي کو اتوار کی صبح ایک نامعلوم شخص نے كليانگر میں واقع ان کے گھر پر گولی ماری۔

مقامی پولیس کمشنر رویندر پرساد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مقامی وقت صبح 8 بج کر 40 منٹ پر دو نامعلوم افراد ان کے گھر پہنچے جن میں سے ایک نے ان کے سر میں گولی مار دی۔‘

پولیس حکام کے مطابق ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر ایم ایم كلبرگي کو گولی مارنے کی وجہ ان کے وہ حالیہ بیانات ہوں جن میں انھوں نے بت پرستی کے خلاف باتیں کی تھیں۔

ان بیانات کے بعد انتہاپسند ہندو تنظیموں نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔

ڈاکٹر کلبرگی کے قتل کی خبر سے كرناٹك كے مصنف اور ماہرینِ تعلیم نہ صرف حیران ہیں بلکہ فکر مند بھی ہیں کہ ہندو بنیاد پرستی کے خلاف لڑنے والے دانشوروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر کلبرگی کی موت سے دو سال قبل پونے میں ایک معروف فلسفی ڈاکٹر نریندر دبھولکر کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔

پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ’ڈاکٹر كلبرگي نے کچھ عرصہ پہلے بت پرستی کے بارے میں ایک بیان دیا تھا جس سے بنیاد پرست لوگ خاصہ برہم ہوئے تھے، ہو سکتا ہے کہ یہی بیان ان کے قتل کا سبب بنا ہو۔‘ ڈاکٹر كلبرگي ایک معروف دانشور پروفیسر تھے اور وہ اپنی رائے کا بے باکی سے اظہار کرنے کے لیے مشہور تھے۔

وہ کئی بار ہندو تنظیموں، جیسے بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد کی تنقید کے شکار ہوئے تھے۔

گذشتہ سال ڈاکٹر كلبرگي نے بت پرستی کی مذمت کی تھی جس پر ان کے خلاف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

کرناٹک کے ایک ادیب کا کہنا تھا کہ ’كرناٹك میں پہلے ایسے واقعات نہیں ہوتے تھے۔ تقریباً تین ماہ قبل معروف مصنف اور صحافی لگاناستيام کو قتل کر کے ان کی لاش کو گٹر میں پھینک دیا گیا تھا۔ پتہ نہیں کرناٹک کس طرف جا رہا ہے۔ ‘

ڈاکٹر کلبرگی کی ہلاکت پر ایک اور مصنف ڈاکٹر باراگر رامچندرپپا کا کہنا تھا کہ ’کرناٹک میں کبھی کسی مصنف کو اس کے خیالات کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا۔ ہم سب سکتے کے عالم میں ہیں۔ اگر متنازعہ خیالات ظاہر کرنے کا مطلب قتل کا خطرہ مول لینا ہے، تو یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ یقیناً یہ کام فرقہ وارانہ عناصر کا ہے۔‘

پولیس حکام کے مطابق قتل کے پیچھے ذاتی وجوہات کے ساتھ ساتھ دیگر عوامل کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں