’ملا عمر کی موت کو مصلحتاً خفیہ رکھا گیا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption منتخب امیر نے عملی طور پر قیادت کے معاملات ملا محمد عمر کی زندگی میں ہی میں سنبھالنا شروع کر دیے تھے

افغان طالبان نے اپنے نئے امیر ملا اختر محمد منصور کا تفصیلی تعارف جاری کرتے ہوئے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ شوریٰ اور اہم قائدین کو ملا عمر کی 2013 میں موت کے بارے میں معلوم تھا لیکن یہ خبر مصلحتاً خفیہ رکھی گئی تھی۔

افغان طالبان کے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی شوریٰ اور اہم قائدین کو ملا عمر کی موت کے بارے میں معلوم تھا لیکن اس خبر کو طالبان کے مرکزی قائدین تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

بیان کے مطابق 23 پریل 2013 کو جب ملا محمد عمر کا انتقال ہوا تو رہبری شوری کے کئی ارکان، علمائے کرام، گذشتہ 14 سالوں میں ملا محمد عمر کے خصوصی قاصدوں اور ان کے دائمی ساتھیوں، سب نے منصور کے ہاتھ پر بیعت کی اور انھیں امیر متعین کر دیا۔

طالبان کا کہنا ہے کہ رہبری شوریٰ، اہم قیادت اور چند شیوخ اور علما نے اس وقت یہ فیصلہ کیا کہ مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ ملا محمد عمر کی وفات کی خبر ان چند افراد تک محدود رکھی جائے۔

تاہم اس سال 30 جولائی کو بالآخر مُلا محمد عمر کی موت کی خبر ظاہر کر دی گئی جس کے بعد ملا اختر منصور کو باضابطہ طور پر نیا رہنما مقرر کر دیا گیا۔

اپنے نئے امیر مولوی اختر محمد منصور کی زندگی کا تفصیلی تعارف جاری کرتے ہوئے افغان طالبان کا کہنا تھا کہ منتخب امیر نے عملی طور پر قیادت کے معاملات ملا محمد عمر کی زندگی میں ہی میں سنبھالنا شروع کر دیے تھے۔

بیان کے مطابق ’نئے امیر اپنی تمام تر عسکری اور انتظامی مصروفیات کے ساتھ ساتھ میڈیا پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ طالبان کے فرہنگی اور نشریاتی کارکنوں کو ان کی نشریات اور تحریروں کے حوالے سے خصوصی مشاورت اور احکام دیتے ہیں۔ عسکری فرنٹ پر وہ محاذوں اور عسکری ذمہ داران سے ہمیشہ رابطے میں رہتے ہیں۔ دشمن پر ہونے والے حملوں کا منصوبہ خود دیکھتے ہیں۔‘

اس سوانح عمری جاری کرنے کی وجہ جنگجوؤں کی یہ خواہش بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے نئے امیر کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔

یہ تعارف ایک ویسے وقت جاری کیا گیا ہے جب کے ملا محمد عمر کے خاندان کو خدشہ ہے کہ نئے امیر ان کے خلاف کوئی فتویٰ جاری کرنے والے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گذشتہ دنوں ملا عمر کے بھائی ملا عبدالمنان کا کہنا تھا کہ ایسا فتویٰ ایک بڑے فتنے اور اختلافات کا سبب بن سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’اپریل 2013 میں ملا عمر کے انتقال پر رہبری شوریٰ، علمائے کرام، ملا عمر کے قاصدوں وغیرہ نے ملا اختر کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی‘

ملا محمد عمر کے بھائی تسلیم کرتے ہیں کہ ملا اختر منصور کو ملا عمر نے اپنی زندگی میں بطور عسکری کمانڈر اہم فرائض دیے تھے لیکن اب معاملہ مختلف ہے اور ایک ایسے شخص کے انتخاب کی ضرورت ہے جو تمام علما، کمانڈروں اور جن افراد نے تحریک کے لیے قربانیاں دی، ان کی رائے سے منتخب ہو۔

انھوں نے کہا کہ ’اب معاملہ قوم کی رہبری کا ہے۔‘

جاری شدہ تعارف کے مطابق ملا اختر محمد منصور الحاج محمد جان کے بیٹے ہیں اور ان کی پیدائش 1968 میں قندہار کے ضلع میوند کے گاؤں بند تیمور میں ہوئی تھی۔

ان کو سات سال کی عمر میں ان کے والد نے اپنے علاقے کے ایک دینی ادارے میں داخل کروایا جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انھوں نے بعض مشہور مدارس کا رخ کیا۔

’اسی دوران افغانستان کا سیاسی اقتدار کمیونسٹوں کے ہاتھوں میں چلا گیا اور افغانستان کے مجاہد عوام نے ان کے خلاف اسلامی تحریک کا آغاز کر دیا۔‘

سوویت جارحیت کے درمیانے ادوار میں ملا اختر محمد منصور نے اپنی دینی تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ بعدازاں انھوں نے مستقلاً میدان جنگ کا انتخاب کیا۔ اس وقت ان کی عمر 20 سال تھی۔

انھوں نے 1985 میں جنگی کارروائی کے لیے قندہار کے مشہور کمانڈر قاری عزیز اللہ کے محاذ سے اپنی عسکری زندگی کا آغاز کیا۔ بعد میں انھیں مولوی محمد یونس خالص کی تنظیم ’حزب اسلامی‘ میں ذمہ داری دی گئی۔

مولوی اختر محمد منصور1987 میں قندہار کے ضلع پنجوائی کے علاقے سنزری میں روسیوں کے ایک مرکز پر حملے کے دوران زخمی ہو گئے تھے اور پھر دوسری بار مئی 1997 میں طالبان حکومت کے دور میں مزارشریف کے ہوائی اڈے پر زخمی ہوگئے تھے اور اسی حالت میں انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

1992 میں افغانستان میں کمیونسٹ نظام کے خاتمے اور داخلی جنگوں کے آغاز کے بعد ملا اختر منصور نے بندوق رکھ دی اور اقتدار کی خاطر شروع ہونے والی جنگ میں کسی کا ساتھ نہیں دیا۔ لیکن سنہ 1994 میں ملا محمد عمر کی جانب سے طالبان کے نام سے اسلامی تحریک کا آغاز ہوا تو وہ اس میں شامل ہوگئے۔

جاری شدہ تعارف کے مطابق تحریک کے سربراہ کی جانب سے انھیں اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں جن میں قندہار پر قبضے کے بعد انھیں قندہار ہوائی اڈے کا مرکزی سربراہ متعین کرنا، فضائی افواج اور فضائی دفاع کی ذمہ داری دیا جانا، 1996 میں دارالحکومت کابل پر قبضے کے بعد فضائیہ اور سیاحت کا وزیر بنایا جانا، اور وزارت کے دوران ہی وزارت دفاع سے منسلک فضائی دفاع کی مرکزی کمانڈ بھی دیا جانا شامل ہیں۔

اسی بارے میں