تیستا بھارتی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’سیتلواڑ کا زیادہ تر وقت اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع میں کرنے میں گزرتا ہے‘

وہ ’بھارت کی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ‘ قرار دی جا چکی ہیں اور پراسیکیوٹر ان کو جیل بھیجنا چاہتے ہیں۔ ان کے گھر اور دفتر پر کئی بار چھاپےمارے جا چکے ہیں، ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر مسلسل ان کی تذلیل کی جا رہی ہے اور دھمکایا جا رہا ہے۔

تیستا سیتلواڑ ملک کی معروف سماجی کارکن ہیں، جن پر ناجائز فنڈ اکٹھا کرنے، زرِمبادلہ کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے، اور فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرین کے لیے جمع شدہ امداد میں خرد برد کا الزام ہے۔

لیکن تفتیش کار ان پر 2003 سے چلنے والے ساتوں مقدمات میں سے کسی میں بھی الزام ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

عدالتیں ان کے حق میں نظر آتی ہیں۔ ان کو پانچ مرتبہ ضمانت پر رہائی مل چکی ہے، اور جولائی میں ممبئی کی عدالت عظمیٰ کے جج نے استغاثہ کے ان الزامات کو فضول کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ سیتلواڑ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

صحافی کلپنا شرما کا کہنا ہے کہ ’حکومت ان کو اس وجہ سے جیل بھیجنا چاہتی ہے کیونکہ یہ دلیر عورت بھارت اور دنیا کو یہ بات بھلانےنہیں دیتی کہ 2002 میں گجرات میں کیا ہوا تھا۔‘

بھارتی ریاست گجرات کے 2002 کے فسادات میں 1000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

یہ فسادات بھارت میں گذشتہ کئی دہائیوں میں ہونے والے انسانیت سوز حملوں کی بدترین مثال ہیں۔

ان فسادات کا آغاز گودھرا سٹیشن پر ٹرین میں آگ لگنے کے باعث 60 ہندو زائرین کی ہلاکت کے بعد ہوا، جس کا الزام مسلمانوں پر لگایا گیا تھا۔

اس وقت گجرات میں بھارت کی قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت تھی اور وزیراعلیٰ نریندر موددی تھے۔ ان پر اس وقت الزام تھا کہ انھوں نے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے بہیمانہ قتل کو روکنے کے لیےکوئی اقدامات نہیں کیے۔ لیکن مودی اس الزام سے ہمیشہ انکار کرتے رہے ہیں۔

اسی برس سیتلواڑ اور ان کے شوہر جاوید آنند نے ایک غیر سرکاری تنظیم قائم کی اور اس کا مقصد مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہونے والے لوگوں کو قانونی مدد فراہم کرنا تھا۔

انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان کی تنظیم ’سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس‘ نے فسادات کے نو واقعات سمیت 68 مختلف کیسوں میں 120 فردِ جرم حاصل کیں جو ایک سینیئر وکیل کے مطابق مذہبی فسادات کے مقدموں میں یہ تعداد ایک ریکارڈ ہے۔

مودی اس سال مئی میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار آئے، لیکن اس سے سیتلواڑ کی اس مہم پر کوئی فرق نہیں پڑا جس میں وہ مستقل ان فسادات کا ذمہ دار وزیراعظم کو ٹھہراتی رہی ہیں۔

53 سالہ سیتلواڑ نے اپنے کاغذات اور کتابوں سے بھرے ہوئے دفتر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پچھلے کچھ ماہ خاص طور پر بہت پریشان کن تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیتلواڑ کو پانچ مرتبہ ضمانت پر رہائی مل چکی ہے

ان کی تنظیم ایک سیکیولر تعلیمی اور اشاعتی ادارہ ہے جو سیتلواڑ نے ممبئی کے پوش علاقے جوہو میں اپنے آبائی بنگلے میں کھولا ہواہے۔

سیتلواڑ ممبئی کے مشہور وکیل کی صاحبزادی ہیں اور اس بنگلے میں رہنے والی چوتھی نسل ہیں۔

اپریل اور مئی میں وزارت داخلہ کے حکام ان کے دفتر میں آ کر کاغذات کی جانچ پڑتال کی۔

جولائی سب سے بدترین تھا۔ پہلے تو وفاقی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن یعنی سی بی آئی کے 16 افسران 22 گھنٹوں تک ان کے گھر اور دفتر کا محاصرہ کر کے چار فائلوں میں موجود دستاویزات سے تقریباً 700 کے قریب صفحات لے کر چلے گئے۔

ان دونوں میاں بیوی نے بعد میں دیکھا کہ سرکاری اہلکار اصلی دستاویزات لے گئے تھے جو وہ پہلے ہی حکام کو جمع کرا چکے تھے۔ لیکن محاصرے کے دوران سیتلواڑ جانے والی ہر دستاویز کی کاپی بنانے میں کامیاب ہوگئی تھیں تاکہ اپنے پاس بھی ریکارڈ رکھ سکیں۔

اس کے کچھ دن بعد ہی استغاثہ نے عدالت میں کہا کہ جبکہ سیتلواڑ پر لگے اس الزام کی تفتیش جاری ہے کہ ان کے فورڈ فاؤنڈیشن سے پیسے لینا قانونی ہیں یا نہیں، سیتلواڑ کو عدالت سے سوال کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیا جائے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گجرات میں فسادات کے وقت قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت تھی اور وزیراعلیٰ نریندر مودی تھے

اس واقعے کے چند دن بعد پراسیکیوٹر نے ایک عدالت سے درخواست کی کہ سیتلواڑ کو جیل بھیج دیا جانا چاہیے کیونکہ انھوں نے ان تحقیقات کے دوران سوالات کیے کہ آیا ان کا فورڈ فاؤنڈیشن سے فنڈنگ حاصل کرنا قانونی تھا۔

اسی ماہ وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کی جانب سپریم کورٹ میں بیان حلفی جمع کرایا کہ سیتلواڑ اور ان کے شوہر نے فسادات کے نام پر دس لاکھ ڈالر سے زائد رقم جمع کی اور اس کا کچھ حصہ عیش و عشرت پر خرچ کر دیا۔ سیتلواڑ اور ان کے شوہر پولیس کے پاس جمع کرائے جانے والی 25 سو صفحات پر مشتمل دستاویزات کے ذریعے ان الزامات کو مسترد کر چکے تھے۔

سیتلواڑ کو یقین ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر چھاپوں کے وقت کا انتخاب کیا تاکہ ان کو غصے دلایا جائے۔

بدھ کوگجرات کی ہائی کورٹ نے اس اہم کیس کی سماعت شروع کی جس میں سیتلواڑ 2013 میں نچلی عدالت کے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر رہی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ احمد آباد میں مسلمانوں کے قتل عام میں مودی کے ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔

ایک سابق ممبر پارلیمان احسان جعفری اور 68 دیگر افراد کو انتہا پسندوں کی ایک تنظیم نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری نے بھی اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دی ہے۔

سیتلواڑ کا کہنا ہے کہ ’یہ تمام مقدمات میں سب سے اہم ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 2002 کے فسادات میں 1000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی

ان کا کہناہے کہ ان کا سب سے بڑا ہتھیار 23000 صفحات کا وہ دستاویزی ثبوت ہے جس میں صرف 64 باکس فائلوں میں پولیس کنٹرول روم سے آنے والی کالوں کا ریکارڈ شامل ہے۔

ان کی قانونی ٹیم میں چھ کے قریب اعلیٰ عدالتوں میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے وکلا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نچلی عدالتوں میں معاوضے کے عوض کام کرنے والے تقریباً 12 وکیل بھی موجود ہیں، جن سے ان کو امید ہے کہ وہ ججوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

جبکہ دوسری طرف ان دنوں سیتلواڑ کا زیادہ تر وقت اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع میں کرنے میں گزرتا ہے۔ سیتلواڑ کے مطابق ’یہ حکومت اپنے مخالفین کو ذلیل کرنے اور خاموش کرانے پر یقین رکھتی ہے۔ میرے اوپر یہ الزمات بہت گھٹیا ہیں۔‘

حکومتی جماعت بی جے پی کے سینیئر ترجمان نالین کوہلی کا کہناہے کہ سیتلواڑ نے اگر قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے تو انھیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’اگر ان کی تنظیم نے زرمبادلہ کے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی تو ان کو پریشان ہونےکی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر انھوں نے قانون توڑا ہے تو ان کو نتائج بھگتنا پڑیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فسادات کا آغاز گودھرا سٹیشن پر ٹرین میں آگ لگنے کے باعث 60 ہندو زائرین کی ہلاکت کے بعد ہوا

’سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے جو رقم فورڈ فاؤنڈیشن سے لی تھی وہ انھوں نے میڈیا پر اپنی تشہیر اور پروپیگنڈے پر لگا دی۔‘

کوہلی کا کہنا ہے کہ ’سیتلواڑ تنازعے سے بالکل مستثنیٰ نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی ان پر گواہوں پر تشدد کرنے کا الزام ہے۔ ان پر فسادات کے متاثرین سے رقم لے کر ان کے لیے مکانات اور یادگاریں بنانے کا الزام بھی ہے۔‘

گجرات فسادات کے متاثرین کے لیے لڑنے والی سیتلواڑ کا کہنا ہے کہ ذکیہ جعفری کیس کے علاوہ اس مسئلے پر دو مقدمات اور چل رہے ہیں۔ اپنا دفاع کرنے کا مقصد ہے کہ ان دنوں ان کا زیادہ تر وقت اپنے وکلا سے ملنے اور عدالتوں کے چکر کاٹنے میں گزرتا ہے۔ ان کی مالی حالت بہت تنگ ہیں۔ ان کے دو بچے کالج میں ہیں۔ یہ لوگ اس وقت اپنے بڑھاپے کے لیے جمع کی گئی رقم پر گزارا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’لیکن اس جنگ کو چلنا ہے۔ بھارت میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری پر معافی ایک روایت بنتی جا رہی ہے۔ اداروں پر سمجھوتہ ہو رہا ہے۔ سماجی کارکنوں پر حملے کیےجاتے ہیں۔ ماضی کے جرائم سے جان بوجھ کر چشم پوشی کی جا رہی ہے۔ ہمارے کام سے لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔ لیکن ہمیں یہ جنگ جاری رکھنی ہو گی۔‘

اسی بارے میں