بھارت: آندھر پردیش اور اڑیسہ میں بجلی گرنے سے 32 افراد ہلاک

Image caption بھارت کی مشرقی ریاست اوڈیشہ میں آسمانی بجلی کو قدرتی آفات میں شامل کیا گیا ہے

بھارت کی جنوب مشرقی ریاست آندھر پردیش میں حکام کا کہنا ہے کہ آسمانی بجلی گرنے سے کم از کم 23 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ اس سے ملحقہ ریاست اڑیسہ میں نو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سرکاری میڈیا آل انڈیا ریڈیو کے مطابق اتوار کو خلیج بنگال میں ہوا کے دباؤ میں کمی کے سبب زبردست بارش اور بجلی گرنے سے یہ اموات ہوئی ہیں۔

ریاست کے وزیراعلیٰ کے دفترنے ان اموات کی تصدیق کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ اموات نالور، پرکاسم، گنتور، کرشنا، مشرقی گوداوری، اننت پور اور سریکاکولم اضلاع میں ہوئیں۔

وزیر اعلی چندربابو نائیڈو نے حالات کا جائزہ لیا اور آسمانی بجلی کی زد میں آ کر مرنے والوں کے لواحقین کے لیے چار چار لاکھ معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

جبکہ اڑیسہ میں آسمانی بجلی سے کم از کم نو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ dilip sharma
Image caption آسام میں آنے والے سیلاب سے تقریبا 18 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں

خیال رہے کہ بجلی کے گرنے کو ریاست میں قدرتی آفات میں شامل کیا گیا ہے اور گذشتہ پانچ سال کے دوران ریاست میں 1500 افراد آسمانی بجلی کی زد میں آکر اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔

دوسری جانب بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 61 ہو گئی ہے۔

آسام میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق رواں سال چوتھی بار آنے والے سیلاب میں اتوار کو پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ اموات دلگاؤں، ڈبروگڑھ، جگی روڈ اور برکھیتری علاقوں میں ہوئی۔

حکام کے مطابق سیلاب کی وجہ سے 20 اضلاع میں تقریباً 18 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ریاستی حکومت کی جانب سے مختلف اضلاع میں قائم کیے جانے والے 277 ریلیف کیمپوں میں تقریباً دو لاکھ افراد رہ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ dilip sharma
Image caption ریاست کے تقریبا دو لاکھ افراد ریلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں

حکام کا کہنا ہے کہ تازہ سیلاب سے ریاست میں جنگلی حیوانات کی دو اہم پناہ گاہیں قاضی رنگا نیشنل پارک اور پابیتورا وائلڈ لائف سینکچوئری متاثر ہوئی ہیں۔

مقامی صحافی دلیپ کمار شرما کے مطابق امداد کے نام پر دی جانے والی اشیا وقت پر نہ ملنے سے سیلاب متاثرین میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے جبکہ مرکزی اور ریاستی حکومت کے درمیان ریلیف کی رقم پر تنازعے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

آسام کے محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے اتوار کو ریاست کے 20 اضلاع میں 1880 گاؤں کے ڈوبنے کے بارے میں بتایا۔

دھبري، موري گاؤں اور درنگ ضلعے میں صورت حال بہت سنگین ہے۔ ان اضلاع میں امدادی کاموں میں مقامی انتظامیہ کی مدد کے لیے بھارتی فوج کو اتارا گیا ہے۔

جبکہ سیلاب زدہ افراد نے حکومت کی طرف سے دی جانے والی امداد پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا، ادویات اور بچوں کی غذا کے نام پر انھیں حسب ضرورت مقدار میں چیزیں نہیں مل رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ dilip sharma
Image caption بی ایس ایف کی سرحدی چوکیوں میں بھی پانی داخل ہو گيا ہے

این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیم مسلسل امدادی کاموں میں لگی ہوئی ہے اور سیلاب میں پھنسے ہوئے سینکڑوں افراد کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے۔

بھارت بنگلہ دیش کی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے جوان بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

دھبري ضلعے سے ملحقہ بھارت بنگلہ دیش بین الاقوامی سرحد پر موجود سرحدی چوکیوں میں سیلاب کا پانی داخل ہو گیا ہے اور اس کی وجہ سے بی ایس ایف کے جوانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت سے سیلاب سے نمٹنے کے لیے 500 کروڑ کی عبوری امداد طلب کی گئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے اب تک کوئی مدد نہیں کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Dilip Sharma
Image caption متاثرین نے ضروری اشیا کی فراہمی میں کمی کا الزام لگایا ہے

ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت اگر مدد نہیں کرے گی تو وہ فوری طور پر امدادی کام کے لیے پیسہ کہاں سے لائیں گے؟

مرکزی جونیئر وزیر برائے کھیل سروانند سونووال نے وزیر اعلیٰ پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے آسام کے سیلاب کی موجودہ صورت حال پر اتوار کو نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کی ہے اور انھیں وہاں کی صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سیلاب کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں