پروین توگڑیا بےاولاد ہندوؤں کی مدد کریں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Vishwa Hindu Parishad
Image caption ’ہیلپ لائن پر کسی سےاس کا مذہب نہیں پوچھا جاتا ہے‘

بھارت میں ہندؤں کی سخت گير نتظیم وشو ہندو پریشد نے ان ہندو جوڑوں کی مدد کرنے کا اعلان کیا ہے جو بےاولاد ہیں۔

تنظیم کے عبوری صدر پروین توگڑیا نے بےاولاد ہندو جوڑوں سے علاج کے لیے صلاح و مشورہ کرنے کے لیے ہیلپ لائن پر فون کرنے کی اپیل کی ہے۔

ناسک میں ہندؤں کے مذہبی تہوار کمبھ میں وشو ہندو پریشد کے اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ ان ہندو خاندانوں کا علاج کروانا چاہتے ہیں جنہیں بعض بیماریوں کی وجہ سے بچے پیداکرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

اس سلسلے میں توگڑیا نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا ’ڈاکٹر ہونے کی بنا میں کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان میں 25 فیصد آبادی بانجھ پن کا شکار ہے اور اس کی اہم وجہ لوگوں کا بدلتا طرزِ زندگی ہے۔‘

ہندؤں سے اپیل

توگڑیا نے یہ بات تسلیم کی کہ ناسک میں انہوں نے بے اولاد ہندو جوڑوں سے اس ہیلپ لائن کی سہولت سے زیادہ فائدہ اٹھانےکی اپیل کی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں توگڑیا نے کہا کہ ہیلپ لائن پر کسی سےاس کا مذہب نہیں پوچھا جاتا ہے اور صرف اقتصادی صورتحال اور مسائل کے بارے میں پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔

توگڑیا نے کہا:’بانجھ پن کا علاج اتنا مہنگا ہے کہ غریب طبقہ اس کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔ ایسے ہی بے اولاد جوڑوں کے علاج کے لیے ہیلپ لائن شروع کی گئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت میں دیگر برادریوں کے مقابلے مسلمانوں کی شرح پیدائش تھوڑی بڑھی ہے

وی ایچ پی لیڈر نے کہا کہ اب تک ملک بھر میں ایسے 40 مراکز کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں بہت کم خرچے پر مشورہ اور علاج فراہم کیا جائے گا۔

چند روز پہلے ہی کی بات ہے بھارتی حکومت نے آبادی سے متعلق نئے اعداد و شمار جاری کیے تھے جس کے مطابق بھارتی مسلمانوں کی آبادی کی شرح کافی کم ہوئی ہے۔ لیکن پھر بھی دیگر برادریوں کے مقابلے مسلمانوں کی شرح پیدائش تھوڑی بڑھی ہے۔

اس رپورٹ کے آنے پر کئی ہندو تنظیموں نے تشویش ظاہر کی تھی۔ ہندو تنظیمیں ہندوؤں سے اپیل کرتی رہی ہیں کہ وہ اپنی آبادی بڑھانے کے لیے زیادہ بچے پیدا کریں۔

وشو ہندو پریشد نے ناسک کے کمبھ میلے میں جو قرار داد منظور کی ہے اس میں مسلمانوں سے آبادی پر کنٹرول کرنے کے لیے’اندرونی سطح پر اصلاح‘ کی اپیل کی گئی ہے۔

تنظیم نے اپنی قرار داد میں کہا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ بھی ملک کی دیگر برادریوں کی طرح خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کریں تاکہ ملک کی آبادی پر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد ملے۔

اسی بارے میں