بہار کے انتخابات مودی کی شہرت کا امتحان کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption بھارت کی اس سب سے زیادہ آبادی اور غریب ریاست ’بہار‘ میں چھ کروڑ 60 لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں

اس سال بھارت کی ریاست بہار میں ہونے والے الیکشن جن کا ملک بھر میں چرچا ہے کون جیتے گا؟

چند دن قبل الیکشن حکام نے اعلان کیا کہ مشرق ریاست بہار میں اکتوبر اور نومبر میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔

بھارت کی اس سب سے زیادہ آبادی اور غریب ریاست میں چھ کروڑ 60 لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں جو 243 نسشتوں کے لیے 12 اکتوبر سے پانچ نومبر کے درمیان ووٹ ڈالیں گے۔ پانچ مرحلوں میں ہونے والے ان انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا کام آٹھ نومبر کو کیا جائے گا۔

مرکز میں برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر اعظم نریندر مودی کا ان انتخابات میں دو طاقت ور مقامی سیاست دانوں نتیش کمار اور لالو پرساد کی قیادت میں قائم مقامی جماعتوں کے اتحاد سے مقابلہ ہے۔

نتیش کمار اور لالو پرساد کی جماعتیں جے ڈی یو اور آر جے ڈی ماضی کی حریف اور اب حلیف جماعتیں ہیں۔ گذشتہ 25 برسوں میں سے 20 برس تک ان دونوں جماعتوں نے بہار پر حکومت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption نتیش کمار پٹنا کے ایک مندر میں عبادت کرتے ہوئے

نتیش کمار ایک سوشلسٹ ہیں اور نچلی ذات کے رہنما ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو جدید دور کے سیاست دان کے طور پر پیش کیا ہے اور جو ذات پات کی بنیادوں پر اقربا پروی سے ہٹ کر ترقی کو ترجیح دیتا ہے۔

لالو پرساد یادیو نتیش کمار سے نظریاتی طور پرقریب ہیں لیکن کئی اعتبار سے ان کی بالکل ضد واقع ہوئے ہیں۔ وہ ایک مقبول سیاست دان ہیں جن کی عوامی شخصیت عام آدمی کے لیے کشش کا باعث ہے۔ انھیں پسند کرنے والے بھی انھیں اُتنی ہی شدت سے چاہتے ہیں جتنی کہ اُن سے نفرت کرنے والے اُن کی مخالفت کرتے ہیں۔ اُن کے مخالفین اُن کے 15 برس کے دورے اقتدار میں بدانتظامی اور اُن کے بدعنوانی میں ملوث ہونے کے قصے سنانے سے نہیں تھکتے۔ اُنھیں مویشیوں کا چارہ خریدنے کے لیے مختص سرکاری فنڈز میں خرد برد کے الزام میں سزا بھی ہو چکی ہے۔

تو پھر بہار کے انتخابات اتنے اہم کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ MUKESH KUMAR
Image caption حکمران جماعت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دہلی اسمبلی کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی سے شکست سے قومی سطح پر پارٹی مقبولیت کا اندازہ لگانا درست نہیں ہے

نریندر مودی جنہوں نے گذشتہ سال الیکشن میں تاریخی کامیابی کے بعد مرکز میں اقتدار سنبھالا تھا اُن کے لیے یہ انتخابات اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں کسی مٰضبوط اور مقبول مقامی رہنما کے نہ ہونے کی وجہ سے نریندر مودی کو خود الیکشن مہم چلانا پڑ رہی ہے اور اب تک وہ چار بڑے انتخابی جلسوں سے خطاب کر چکے ہیں۔

حکمران جماعت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دہلی اسمبلی کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی سے شکست سے قومی سطح پر پارٹی مقبولیت کا اندازہ لگانا درست نہیں ہے۔

کڑا مقابلہ

بہار میں قائم حزب اختلاف کے اتحاد کی کامیابی ان کے لیے بہت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ بہار میں کامیابی کے بعد انھیں دوسری ریاستوں کے انتخابات میں متحد ہو کر الیکشن لڑنے کا حوصلہ ملے گا اور اتر پردیش کے سنہ 2017 میں ہونے والا اہم انتخابی معرکہ بھی ان میں شامل ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بہار میں انتہائی کڑا مقابلہ ہوگا گو کہ بی جے پی کو معمولی سے برتری حاصل ہے۔

بی جے پی کی حکومت کی کارکردگی بہتر نہیں رہی لیکن ابھی بھی نریندر مودی کی مقبولیت کے گراف میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

بہار میں بہت شور ہے کہ ووٹر ترقیاتی کاموں کو ذات پات پر فوقیت دیں گے لیکن پھر بھی توقع ہے کہ ذات پات ہی انتخابی نتائج میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

سیاسیات کے ماہر سنجیو کمار کا کہنا ہے بہار کے انتخابات میں ذات پات کی بنیادوں پر ووٹ اسی طرح ڈالے جائیں گے جس طرح کے ماضی میں اس ریاست کی روایت رہی ہے۔

ایک انتہائی کڑے انتخابی معرکے میں جہاں نسلی شناخت اور ذات پات کے ہی ووٹنگ میں فیصلہ کن عنصر رہنے کا امکان ہے وہاں بے جے پی کو امید ہے کہ وہ نوجوان نسل میں مودی کے لیے پائی جانے والی کشش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ ووٹ توڑنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

مودی سرکار انتہائی منظم اور موثر انتخابی مہم کے ذریعے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ غربت سے نکلنے کے لیے روز گار کے نئے مواقعے ہی واحد راستہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SEETU TIWARI
Image caption مبصرین کا کہنا ہے کہ بہار میں انتہائی کڑا مقابلہ ہوگا گو کہ بی جے پی کو معمولی سے برتری حاصل ہے

بھارت کی کل آبادی کا آٹھ فیصد حصہ بہار میں آباد ہے جو بھارت کے مجموعی رقبے کا صرف تین فیصد ہے۔ بہار زیادہ آبادی اور غربت کا شکار ہے۔

نتیش کمار اور لالو پرساد یادیو کی سوانح لکھنے والے مصنف شنکر شان ٹھاکر کا کہنا ہے کہ بہار میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جس پر احتجاج ہو سکتا ہے۔ جن میں پنشن، اجرتیں، بے روز گاری، بھوک، جنسی زیادتی، ظلم اور زمین پر قبضے وغیرہ کے مسائل ہیں۔

بہار سے تعلق رکھنے والے سماجی ماہرین کے چوہدری کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ انتخابات ذات اور شناخت کے حوالوں کے ساتھ ہوں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ یادیو اور کمار کے درمیان ہونے والا اتحاد ذات سے ہی چل رہا ہے اور بی جے پی بھی ذات پر بات کر رہی ہے۔ بہار کی سیاست کا ظہور ان انتخابات کے ساتھ ہو رہا ہے۔

جب آپ یہ سوچتے ہیں کہ بھارت کی سیاست میں ذات کو پسپائی ہو رہی ہے۔ تو وہ انتقامی طور پر واپس آجاتی ہے۔ جتنی زیادہ چیزیں بدلتی ہیں وہ اتنی ہی زیادہ ویسی رہتی ہیں۔