آ بیل مجھے مار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پہلے ہی حل طلب مسئلے کیا کم تھے کہ اب بی جے پی نے بیف کی تان پھر سے چھیڑ دی

بھارت بیف کے دس بڑے عالمی برآمد کنندگان کی فہرست میں اول نمبر پر، بیف کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں اور بیف کے استعمال کے لحاظ سے ساتویں نمبر پر ہے۔

ایسے ’بیفی‘ ملک میں سری نگر سے ممبئی تک بیف کی خرید و فروخت اور استعمال پر سر پھٹول باقی دنیا کے لیے عجیب سی بات ہے۔

ایک اندازے کے مطابق بھارت میں 22 فیصد آبادی ادنی ذاتوں ( شیڈول کاسٹ)، 16 فی صد آبادی مسلمانوں اور لگ بھگ دس فیصد آبادی قبائلیوں پر مشتمل ہے۔ یعنی کل ملا کے ان تینوں طبقات کی آبادی 48 فیصد بنتی ہے اور ان طبقات کو برہمنوں کے برعکس ماس خوری پر کوئی خاص اعتراض بھی نہیں۔( کئی اعلی ذاتیں بھی بیف خوری پر معترض نہیں جیسے سندھی ہندو کمیونٹی وغیرہ)۔

پورا شمال مشرقی بھارت، مغربی بنگال اور ارونا چل پردیش بیف ایٹنگ بیلٹ کہلاتا ہے جبکہ جنوب میں گوا اور کیرل جیسی ریاستوں میں بیف کھانےکی آزادی ہے اور تامل ناڈو ، ہما چل پردیش وغیرہ کا شمار ان ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں بیف کی خرید و فروخت، جانوروں کی عمر سمیت بعض قانونی شرائط کے ساتھ ہو سکتی ہے۔

البتہ مہاراشٹر، گجرات، راجھستان، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور اڑیسہ سمیت لگ بھگ دس شمالی و وسطی ریاستوں میں بیف بالخصوص گائے کےگوشت کی خرید و فروخت کی کھلے عام ممانعت ہے اور انہی ریاستوں میں سب سے زیادہ غیرقانونی مذبہہ خانے بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ majid jahangir
Image caption شیو سینا کے کارکن پابندیوں والے دنوں میں خود گوشت بیچنے کے سٹال لگائیں گے

مہاراشٹر میں تو گذشتہ برس سے قانون اتنا سخت کر دیا گیا ہے کہ چڑیا گھر میں شیر سمیت دیگر ماس خور جانوروں کا گزارہ بھی مرغی کے گوشت پر ہے۔

سینکڑوں قومیتوں، ثقافتوں اور ہندو مت کی بیسیوں مختلف تشریحات والے بھارت جیسے لمبے چوڑے ملک میں لوگوں کے کھانے پینے کی عادات پر پابندیوں کا کام مرکز نے ریاستی صوابدید پر چھوڑ رکھا ہے۔

چنانچہ جب مہاراشٹر ، راجستھان ، مدھیہ پردیش اور گجرات جیسی ریاستوں میں غیر بی جے پی حکومتیں آتی ہیں تو بیف کھانے والے اطمینان کا سانس لیتے ہیں اور جب بی جے پی سرکار بناتی ہے تو بیف کا استعمال عیب ہو جاتا ہے۔گویا مسئلہ مذہبی پابندی سے زیادہ سیاسی و نظریاتی پسند و ناپسند سے جڑا ہوا ہے۔

جب تک سرکار کسی نظریے کو نافذ کرنے کے لیے قانونی ڈنڈے کا سہارا نہیں لیتی تب تک مختلف فرقے ایک دوسرے کے احترام میں رضاکارانہ طور پر ایسے اقدامات سے پرہیز کرتے ہیں جن سے دوسرے طبقے کی دل آزاری ہو، لیکن جب بات زور زبردستی پر آجائے تو پھر فریقِ مخالف بھی ضد پکڑ لیتا ہے۔

اب جین مت کے تہواروں کو ہی لے لیجیے۔ جینیوں کی ایک بڑی تعداد راجھستان، مدھیہ پردیش،گجرات اور مہاراشٹر میں بستی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کانگریس کے ترجمان اجے ماکھن نے بھی بیف کے کاروبار پر جبری پابندی کو کھانے پینے کی نجی آزادی میں بے جا مداخلت قرار دیا

جینی کسی بھی طرح کے گوشت سے سختی سے پرہیز کرتے ہیں۔ چنانچہ صدیوں سے ان ریاستوں میں رواج ہے کہ جینیوں کے بڑے تہواروں کے موقع پر باقی برادریاں چند دن کے لیے گوشت کی خرید و فروخت سے پرہیز کرتی ہیں۔( حتیٰ کہ پاکستان کے ضلع عمر کوٹ اور تھرپارکر میں بھی مقامی مسلمان ہندو برادری کے احترام میں نامعلوم زمانے سے کھلے عام گائے ذبح کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔)

اس سال پہلی بار ایسا ہوا کہ راجستھان، گجرات اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی ریاستی حکومتوں نے بزورِ قانون گوشت کا کاروبار کہیں چار تو کہیں آٹھ دن بند کرانے کی کوشش کی۔

راجستھان میں تو حکومت نے مچھلی کی فروخت بھی رکوا دی۔ چنانچہ ماس خور برادریاں تو رہیں ایک طرف خود مہاراشٹر کی شیو سینا کو بھی غصہ آگیا۔ اس کے رہنما اودے ٹھاکرے اور ان کے حریف راج ٹھاکرے نے اعلان کیا کہ چونکہ یہ پابندی مذہبی سے زیادہ سیاسی موقع پرستی کے تحت لگائی گئی ہے لہذا ان کے کارکن پابندیوں والے دنوں میں خود گوشت بیچنے کے سٹال لگائیں گے۔

اس دوران ممبئی مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہائی کورٹ میں پابندی کو چیلنج کیا تو ہائی کورٹ نے بھی اپنی رولنگ میں کہا کہ ممبئی جیسے شہر میں جہاں طرح طرح کی برادریاں بستی ہیں گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی نامناسب ہے۔

جبکہ دلی میں کانگریس کے ترجمان اجے ماکھن نے بھی بیف کے کاروبار پر جبری پابندی کو کھانے پینے کی نجی آزادی میں بے جا مداخلت قرار دیا۔

Image caption اس بار لگتا ہے کہ عید کے موقع پرگائے اور بیل زیادہ کٹ جائیں گے

یہ کیا کم تھا کہ اوپر سے جموں و کشمیر کی ہائی کورٹ بھی عین موقع پر کود پڑی اور اس نے بی جے پی کے ایک متحرک وکیل ہری موکش سیٹھ کی درخواست پر سابق ڈوگرہ ریاست میں سنہ 1928 کے 87 برس پرانے رنبیر ایکٹ کو سوتے سے جگا دیا جس کے تحت گائے اور بیل وغیرہ کے ذبح پر دس برس قید اور جانور کی قیمت سے پانچ گنا زائد جرمانے کی سزا ہے۔

یہ فیصلہ کشمیر میں امن و امان کی نازک صورتحال کے تناظر میں گویا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے برابر ثابت ہوا ہے اور کشمیر کی سکھ برادری سے لے کر کیا حکمران پیپلز ڈیموکریٹک لیگ، کیا حزبِ اختلاف جماعتِ اسلامی، مسلم لیگ اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے دونوں دھڑے، سب ہی ایک ’بیف پیج‘ پر آگئے۔

آج پوری وادی مکمل بیف ہڑتال پر ہے۔ کشمیری بالخصوص وادی کے مسلمان طبعاً مٹن زیادہ پسند کرتے ہیں لیکن اس بار لگتا ہے کہ عید کے موقع پرگائے اور بیل زیادہ کٹ جائیں گے۔

سوائے بی جے پی اس وقت کوئی ملک گیر یا بڑی علاقائی جماعت ممبئی سے سری نگر تک ان پابندیوں کی وکالت نہیں کر رہی۔ پہلے ہی حل طلب مسئلے کیا کم تھے کہ اب بی جے پی نے بیف کی تان پھر سے چھیڑ دی۔بی جے پی کے اس طرح بیٹھے بٹھائے ’بیفیانے‘ پر اور کیا کہا جائے۔

یار سے چھیڑ چلی جائے اسد

گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی ( غالب )۔

اسی بارے میں