چین میں لاٹری کے ذریعے مضامین کا انتخاب

Image caption یونیورسٹی آف ساؤتھ چائنا میں سول انجینیرنگ پڑھنے والے طالب علموں کو دستیاب سات مضامین میں سے ایک لاٹری کے ذریعے دیا جا رہا ہے

جنوبی چین کی ایک یونیورسٹی میں طالب علموں کے لیے مضامین کو لاٹری کے ذریعے چنا جا رہا ہے۔

ہنان صوبے میں واقع یونیورسٹی آف ساؤتھ چائنا میں سول انجینیرنگ کے دوسرے سال میں طالب علموں کو اپنے شعبے میں دستیاب سات مضامین میں سے ایک لاٹری کے ذریعے دیا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ لاٹری کا نظام لازمی ہے کیونکہ کچھ مضامین دیگر مضامین سے زیادہ مقبول ہیں۔

یونیورسٹی کے اہلکار لو کنگزوا نے کہا ’ہم یہ اقدامات کرنے پر مجبور تھے۔ اگر ہم طالب علموں کی مرضی پر جائیں گے تو کچھ مضامین کو ضرورت سے زیادہ طالب علم پڑھ رہے ہوں گے اور کچھ میں بالکل نہیں۔ ‘

لیکن سب کو اپنی قسمت پر انحصار نہیں کرنا ہوگا۔ 190 طالب علموں میں جن کے پہلے سال کے امتحانات کے نتائج سب سے بہتر ہوں گے وہ اپنی مرضی کا موضوع چن سکیں گے۔

خبر رساں ادارے زن ہوا کے مطابق باقی طالب علموں کے لیے بھی کچھ اختیارات موجود ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مضامین کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور جن لوگوں کے سب سے بہتر نمبر آئے ہیں وہ اپنا میجر بدل سکتے ہیں۔

یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی لاٹری کے نظام کے بارے میں عملے اور طالب علموں سے مشورہ کیا تھا لیکن سوشل میڈیا کے کچھ چینی صارفین کا کہنا ہے کہ یہ منصفانہ نہیں ہے۔

سوشل نیٹ ورک سینا ویبو پر ایک صارف نے لکھا ’یہ ہمارے مسئلوں کا حل نہیں ہے۔ بلکہ اس سے شکایات مزید بڑھیں گی!‘

دوسری طرف کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اچھا خیال ہے۔ ایک شخص نے لکھا ’طالب علم اصولاً اپنے مضامین خود چننا چاہتے ہیں لیکن یونیورسٹی کے وسائل محدود ہیں۔‘

اسی بارے میں