کیا اویسی بھارتی مسلمانوں کےقومی قائد ہیں؟

Image caption اسدالدین حیدرآباد سے تین بار لوک سبھا کا انتخاب جیت چکے ہیں

بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد سے مسلسل تین بار لوک سبھا (ایوان زیریں) کا الیکشن جیتنے والے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اےآئی ایم آئی ایم) پارٹی کے صدر اسد الدین اویسی ایک با اثر، نڈر اور حوصلہ مند رہنما نظر آتے ہیں۔

اونچے قد اور صحت مند شخصیت والے اویسی اپنی لمبی شیروانی اور سیاہ داڑھی میں حیدرآباد سے زیادہ اودھ کے نواب جیسے لگتے ہیں اور وہ جب بولتے ہیں تو ان کے مخالف بھڑک اٹھتے ہیں اور ان کے حامی جوش میں آ جاتے ہیں۔

ان کو پسند کرنے والوں میں بی جے پی کے لیڈر سبرامنیم سوامی بھی ہیں جنھوں نے مجھ سے ایک بار کہا تھا: ’یہ آدمی بولتا بہت اچھا ہے۔‘

میں نے حیدرآباد میں عوام کے درمیان ان کی مقبولیت محسوس کی ہے، بطور خاص وہاں کے مسلمانوں کے درمیان۔

مسلم بستیوں میں ان کی پارٹی ہسپتال چلاتی ہے اور سماجی خدمات کے کاموں میں سرگرم رہتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح سے جیسے مہاراشٹر میں ہندو تنظیم شیو سینا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اسدالدین اویسی شعلہ بیان مقرر کے طور پر معروف ہیں

گذشتہ سال عام انتخابات میں وہاں کے کچھ ووٹروں سے جب میں نے بات کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ ان کے ووٹروں کی وفاداری گہری ہے۔

حیدرآباد کہیں یا تلنگانہ، یہ علاقے اویسی کے لیے چھوٹے پڑتے جا رہے ہیں۔ ان کے قریبی لوگ کہتے ہیں کہ وہ ملک بھر کے مسلمانوں کے رہنما کے طور پر دیکھے جانے لگے ہیں۔

ان کی پارٹی گذشتہ سال نومبر میں پہلی بار مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات میں میدان میں اتری تھی اور دو نشستیں حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا تھا۔

اس سے ان کے حوصلے میں مزید اضافہ ہوا۔ اب انھوں نے بہار کے سیمانچل علاقے سے اسمبلی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں اسمبلی کی 24 نشستیں ہیں۔

وہ پہلے ہی سنہ 2017 میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

’اشتعال انگیز تقریر‘

Image caption زبیر احمد کے ساتھ اسدالدین اویسی نے بات چیت کی تھی

لیکن اویسی ایک متنازع لیڈر ہیں۔ ’اشتعال انگیز تقریر‘ کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ ہمیشہ مسلمانوں کے مفاد کی باتیں کرتے ہیں۔

اگر ہندوتوا کی بات کرنے والی تنظیموں اور بی جے پی پر بھارتی سماج کو تقسیم کرنے کا الزام ہے تو اویسی کے خلاف فرقہ وارانہ سیاست کرنے کا الزام ہے۔

عوامی جلسوں میں اویسی شعلہ بیان نظر آتے ہیں جبکہ پارلیمنٹ میں ان کا انداز جارحانہ ہوتا ہے۔

مسلم نوجوانوں پر لوک سبھا میں ان کی تقاریر کا اثر ہوتا ہے لیکن انگلینڈ سے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے والے اویسی کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر باتیں کرتے ہیں اور خود کو ’صد فیصد بھارتی قوم پرست‘ کہتے ہیں۔

اویسی وہی سب کچھ کہتے ہیں جو آج کے ہندوستانی مسلمان سننا چاہتے ہیں۔ وہ ان کی غریبی، بے روزگاری اور عدم تحفظ پر آواز اٹھاتے ہیں۔

قومی لیڈر

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ان کے فن خطابت کے حامیوں میں سبرامنیم سوامی بھی شامل ہیں

بہار میں اپنے انتخاب لڑنے کے فیصلے پر انھوں نے مجھے بتایا کہ ریاست میں 18 فیصد مسلمان ہیں لیکن صرف سات فیصد مسلم رکن اسمبلی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ مسلمانوں کو ان کا حق دلانے اور انھیں سیاست میں برابر کا شریک اور مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

آزادی سے پہلے جناح مسلم کمیونٹی کے رہنما تسلیم کیے جاتے تھے۔ آزادی کے بعد بھارتی مسلمانوں کا کوئی قومی لیڈر بن کر کبھی نہیں ابھر سکا۔

مسلمانوں کی قیادت ہمیشہ سیکولر ہندو رہنماؤں نے کرنے کا دعوی کیا ہے جن میں نتیش کمار، لالو یادو اور ملائم سنگھ یادو شامل ہیں۔ کانگریس ایک بڑی پارٹی کی حیثیت سے مسلم کمیونٹی کی قیادت کا دعوی کرتی ہے۔

لیکن اویسی کہتے ہیں کہ سیکولر رہنماؤں اور کانگریس پارٹی نے اب تک مسلمانوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف مسلمانوں کی ترقی چاہتے ہیں ٹھیک اسی طرح سے جیسے وہ دلتوں (پسماندہ طبقوں) کی ترقی چاہتے ہیں۔

اچھی خبر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP. Facebook pages of Nitish Kumar and Lalu Yadav
Image caption اب تک مسلمانوں کی قیادت کا دعوی سیکولر جماعتیں کرتی رہی ہیں

مہاراشٹر اسمبلی کی طرح ہی وہ بہار میں مسلمانوں کے ساتھ دلت امیدواروں کو بھی انتخابی میدان میں اتارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عام خیال یہ ہے کہ اویسی کے بہار میں انتخابات لڑنے سے این ڈی اے کو فائدہ ہو گا۔ جن علاقوں سے وہ اپنے امیدوار کھڑا کریں گے وہاں پچھلی بار (2010) نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ کی زبردست جیت ہوئی تھی۔

بہار کے انتخابات کا نتیجہ کچھ بھی ہو وہ مسلم ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر اویسی کچھ سیٹیں نکال لے جاتے ہیں اور سنہ 2017 میں اترپردیش اسمبلی میں انھیں کامیابی ملتی ہے تو وہ مسلمانوں کے قومی سطح کے لیڈر بن سکتے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ایک سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا یہ جمہوریت کے لیے اچھی خبر ہے؟

اسی بارے میں