مسجد الحرام حادثے میں ہلاک ہونے والے بھارتیوں کی تعداد 11 ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کرین مسجد حرام کے باہری حصے کی جانب گرا تھا

سعودی عرب کے شہر مکہ کی مسجد الحرام میں کرین گرنے سے مرنے والوں میں بھارتیوں کی تعداد 11 پہنچ گئی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ جمعے کو ہونے والے حادثے میں ہلاک ہونے والے بھارتیوں کی تعداد پہلے دو بتائی گئی تھی لیکن بعد میں تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے 107 افراد میں مزید نو بھارتی شہری شامل ہیں۔

کرین گرنے کا یہ واقعہ جمعے کی شام دنیا کی سب سے بڑی مسجد کے صحن میں اس وقت پیش آیا تھا جب شدید طوفانِ بادوباراں کے دوران ایک کرین مسجد کی تیسری منزل کی چھت توڑتی ہوئی نیچے آ گری تھی۔

حادثے کے وقت مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ خیال رہے کہ یہ واقعہ فریضۂ حج سے دو ہفتے قبل پیش آیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ ’اتوار کو مردہ خانے کو کھولے جانے کے بعد بھارت کے حج زائرین کے رشتہ داروں کے ساتھ کام کرنے والے اہلکاروں نے مزید نو بھارتی شہریوں کے مرنے کی تصدیق کی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بھارتی سفارت خانہ ہلاک ہونے والے تمام 11 بھارتی زائرین حج کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل تعاون کررہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں اور بارش کے سبب یہ حادثہ پیش آیا

اس حادثے میں 230 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے بعد ہونے والی بھگدڑ میں کتنے لوگوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں انڈونیشیا، ایران، ترکی، افغانستان، مصر، بھارت اور پاکستان کے شہری شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں اور بارش کے سبب یہ حادثہ پیش آیا جبکہ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے سعودی عرب کے تعمیری مقامات پر موجود حفاظتی انتظامات پر خدشات رہے ہیں۔

ابھی تک تقریبا 10 لاکھ افراد حج کے لیے مکہ پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سال حج کے لیے مجموعی طور پر 30 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی سعودی عرب آمد متوقع ہے۔

خیال رہے کہ حج کے موقعے پر مسجد الحرام میں تعمیراتی کام جاری ہے اور اس کی وجہ مسجد میں مزید زائرین کے لیے گنجائش پیدا کرنا ہے۔

مکہ میں عازمینِ جج اور زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے پرانی عمارتوں کے انہدام اور ان کی جگہ بلند و بالا ہوٹلوں اور دیگر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔

اسی بارے میں