ممبئی کے خاکروبوں کی حالت زار

تصویر کے کاپی رائٹ Sudharak Olwe
Image caption ممبئی میں صفائی کرنے والوں کی حالت زار پر فوٹوگرافر سدھاکر نے روشنی ڈالی ہے

بھارت کے صنعتی شہر ممبئی میں میونسپل انتظامیہ نے شہر کی صفائی کے لیے تقریبا تین ہزار ملازمین رکھ رکھے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sudharak Olwe
Image caption ممبئی میں ہر روز تقریبا سات ہزار ٹن کوڑا جمع ہوتا ہے۔

ان میں سے تقریبا تمام ملازم دلت یا پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جنھیں پہلے اچھوت کہا جاتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sudharak Olwe
Image caption نالیوں کو صاف کرنے والے ملازمین کو عام طور پر صفائی کے لیے گہرے نالوں کے اندر جانا پڑتا ہے جو اتنے گہرے ہیں کہ اس میں دو منزلہ بس سما جائے

یہ سب شہر کی گلیوں سے کوڑا کرکٹ چننے، سڑکوں پر جھاڑو لگانے، نالیوں کو صاف کرنے اور کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا کام کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sudharak Olwe
Image caption مشرقی اور مغربی ممبئی کے نواحی علاقوں میں کوڑا جمع کرنے کی پانچ خاص جگہیں ہیں

فوٹوگرافر سدھاکر اولوے کا کہنا ہے کہ ’بغیر استثنی ان سبھی کو اپنے کام سے نفرت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Sudharak Olwe
Image caption ان جگہوں کے آس پاس کوئی کینٹین یا کوئی ایسی سہولت موجود نہیں ہے کہ مزدور اپنے کپڑے تبدیل کر سکیں

اولوے نے اپنے کیمرے سے ان افراد کی زندگی کو قید کرنے کے لیے ایک برس تک محنت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sudharak Olwe
Image caption مشرقی اور مغربی ممبئی کے نواحی علاقوں میں کوڑا جمع کرنے کی پانچ خاص جگہیں ہیں

ممبئی میں ہر روز تقریباً سات ہزار ٹن کوڑا جمع ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sudharak Olwe
Image caption ایسے ملازمین کو حکومت کی جانب سے چھوٹی رہائش گاہیں مہیا کی جاتی ہیں۔ لیکن ان میں بھی ایک سے زیادہ کنبے رہتے ہیں

نالیوں کو صاف کرنے والے ملازمین کو عام طور پر صفائی کے لیے نالوں کے اندر جانا پڑتا ہے جو اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ اس میں دو منزلہ بس سما جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sudharak Olwe
Image caption ہیرامن کی بیوی، جو فوٹو کھنچوانے پر راضی نہیں ہوئیں، اس بات سے ناراض ہیں کہ انھیں اپنا گھر چلانے کے لیے ماہانہ صرف ڈیڑھ سو روپے ملتے ہیں

ایک یا دو گھنٹے کام کرنے کے بعد جب وہ باہر آتے ہیں تو کانپ رہے ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں