مبینہ ریپ کے ملزم سعودی سفارت کار بھارت چھوڑ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونوں خواتین کو گذشتہ ہفتے ایک فلیٹ سے بچایا گیا تھا

بھارت کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ سعودی سفارت کار جن پر دو نیپالی خواتین کے مبینہ ریپ کا الزام ہے، سفارتی استثنیٰ کے تحت بھارت چھوڑ چکے ہیں۔

دونوں متاثرہ خواتین کی عمریں 30 اور 50 سال ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اغوا کر کے ایک فلیٹ میں بھوکا رکھا گیا اور سفارت کار نے انھیں بار بار ریپ کیا تھا۔

سعودی عرب نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور اپنے اہلکار کے سفارتی استثنیٰ کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے نتیجے میں بھارت میں اس اہلکار پر مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی سفارت کار کی بھارت سے روانگی نے بھارت کو ایک سفارتی مخمصے سے نکال لیا ہے۔

نیپال اور بھارت کے سفارتی تعلقات گہرے ہیں لیکن بھارت تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب کے ساتھ بھی تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا جہاں لاکھوں بھارتی شہری کام کرتے ہیں۔

بدھ کی رات کو بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے ایک بیان میں کہا کہ فرسٹ سیکرٹری مجید حسن عاشور نے ’جن پر دو نیپالی خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے کا الزام ہے، ملک چھوڑ دیا ہے‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ سرکاری سفارتی تعلقات پر مبنی ویانا کنوینشن کے تحت مذکورہ سفارتی اہلکار کو تحفظ حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی عرب نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور اپنے اہلکار کی سفارتی استثنیٰ کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا ہے

بھارتی پولیس نے اس سے پہلے سعودی سفارت کار پر ریپ، اغلام بازی اور کسی شخص کو غیر قانونی طور پر قید کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا۔

دونوں خواتین کو بھارتی دارالحکومت دہلی سے ملحق شہر گڑگاؤں کے ایک فلیٹ سے بچایا گیا تھا جس کے بارے میں پولیس کو ایک غیر سرکاری تنظیم نے بتایا تھا۔

خواتین گھریلو کام کرتی تھیں اور ان پر مبینہ طور پر زیادتی کئی ماہ سے ہو رہی تھی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک خاتون نے کہا کہ ’ہمیں لگتا تھا جیسے ہم یہاں پر مر جائیں گی۔‘ انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھ روزانہ زیادتی ہوتی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ فلیٹ کی عمارت بہت اونچی تھی اور وہ وہاں سے بالکل نہیں بھاگ سکتی تھیں۔

دونوں خواتین کو گذشتہ ہفتے واپس نیپال بھیج دیا گیا تھا۔

نیپال دنیا کے سب سے غریب ممالک میں سے ایک ہے اور ملک سے ہزاروں لوگ گھریلو ملازمت یا مزدوری کے لیے بھارت یا دیگر ایشیائی اور عرب ریاستوں کا سفر کرتے ہیں۔

اسی بارے میں