کشمیر میں گائے کے گوشت پر نئی جنگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں گائے کے گوشت پر پابندی کا سو سالہ قانون سیاسی عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔

عدالت نے 83 برس قبل مطلق العنان ہندو حکمران ہری سنگھ کے دور میں بنائے گئے قانون کے نفاذ کا حکم سنایا تو کشمیر میں سیاسی کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اس قانون کی رو سے بڑے جانوروں جیسے گائے، بھینس وغیرہ کو ذبح کرنے کی سزا دس سال قید اور نقد جرمانہ ہے۔

لیکن لوگوں نے اس حکم کی خلاف ورزی میں بڑے جانور جگہ جگہ ذبح کیے ہیں۔ یہاں تک کہ اس قانون کے خلاف لوگوں نے ایوان، عدالت اور سڑک پر ’تکونی جنگ‘ شروع کر دی ہے۔

نیشنل کانفرنس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے گائے کے گوشت کی ممانعت کرنے والی رنبیر پینل کوڈ کی تین شقوں کو کالعدم کرنے کے لیے قانون ساز اسمبلی میں بل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس پر خوب بحث ہوگی، کیونکہ 87 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کی 25 نشستیں ہیں اور کم از کم آٹھ ارکان ایسے ہیں جو بی جے پی کی حمایت کریں گے۔

تین اکتوبر سے شروع ہونے والے اسمبلی کے اجلاس میں حکمران پی ڈی پی مخمصے کا شکار ہو جائے گی، کیونکہ وہ بی جے پی ہی کی حمایت سے اقتدار پر براجمان ہے۔ بی جے پی اور پی ڈی پی کے وزرا نےگائے کے گوشت سے متعلق پہلے ہی الگ الگ موقف اپنا رکھا ہے۔

اس جنگ کا دوسرا محاذ عدالت کو بنایا گیا ہے۔ ایک معروف پروفیسر سید افضل قادری نے عدالت میں اس حکم نامے کو چیلنج کیا ہے جس پر عدالت نے حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کےلیے 23 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے 83 برس قبل مطلق العنان ہندو حکمران ہری سنگھ کے دور میں بنائے گئے قانون کے نفاذ کا حکم سُنایا تو کشمیر میں سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی

تیسرا محاذ علیحدگی پسندوں اور مذہبی جماعتوں نے سنبھال رکھا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما کا اجلاس منعقد کر کے عید کے روز بڑے جانوروں کی قربانی دینے کا فتویٰ دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں کئی ہفتوں سے احتجاجی تحریک جاری ہے اور لوگ عدالتی حکم نامے کے باوجود چوراہوں پر بڑے جانور ذبح کر رہے ہیں۔

دریں اثنا ہندو انتہا پسند تنظیم وشو ہندو پریشد نے دھمکی دی ہے کہ اگر گائے کے گوشت پر پابندی نافذ نہ کی گئی تو کشمیریوں کا معاشی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ جموں اور بھارتی ریاستوں سےکشمیر جانے والی خوراک ، ادویات اور دوسری اشیا کو جموں تک ہی روکا جائے گا۔

یہ تجربہ سات سال قبل اُس وقت کیا گیا جب ہندوؤں کے امرناتھ شرائن بورڑ کو خفیہ طور پر سرکاری زمین الاٹ کرنے پر کشمیریوں نے احتجاجی تحریک شروع کر دی تھی۔ کئی ماہ تک اقتصادی ناکہ بندی جاری رہی اور کشمیری ٹرک ڈرائیوروں کو لہولہان کیا گیا۔

اس تنازعے کی پاداش میں کانگریس اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت گر گئی تھی۔

وی ایچ پی اسی تجربے کو دہرانا چاہتی ہے۔اس کی تازہ دھمکی پر تاجر برادری نے اعلان کیا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو کشمیر راولپنڈی روڈ کے ذریعے وسط ایشائی ممالک کے ساتھ تجارتی رشتے جوڑے گا۔

اکثر حلقے حیران ہیں کہ ایسے وقت میں جب بھارت پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا متمنی ہے اور سرحدوں پر کشیدگی ختم کرنے پر اتفاق ہو چکا ہے، حکومت ایک فرسودہ قانون کی چند متنازع شقوں کو اُچھالنے والے شعبدہ بازوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

اسی بارے میں