’میں بھی گھڑی کو بم ہی سمجھتی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Prashant Ravi
Image caption راہل گاندھی ان دنوں سرگرمی سے سیاسی جلسوں میں شریک ہو رہے ہیں

آپ کو شاید یقین نہ ہو لیکن یہ سچ ہے کہ دنیا میں سب کی ماں ہوتی ہے۔ تصدیق کرنا چاہیں تو کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی سے پوچھ لیجیے۔ ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میری ماں یہاں بیٹھی ہیں، سب کی ماں ہوتی ہے، ایسا کوئی نہیں جس کی ماں نہ ہو۔‘

یہ الیکشن کا موسم ہے، سیاست دان کبھی کبھی ذرا جذباتی ہوجاتے ہیں۔ راہل گاندھی صرف یہ کہنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کسان اپنی زمین سے ماں کی طرح ہی محبت کرتے ہیں لیکن نریندر مودی کی حکومت کسانوں سے ان کی زمین چھین کر بڑے صنعت کاروں کو دینا چاہتی ہے۔

ادھر بی جے پی کی طرف سے بھی کچھ سیاست دان ہیں جو اپنے مخصوص انداز کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں۔ وزیر ثقافت مہیش شرما اس کی شاندار مثال ہیں اور آج کل کافی فارم میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم جب جون میں بنگلہ دیش گئے تھے تو انھوں نے کہا تھا کہ عورت ہونے کے باوجود بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مستعدی سے کارروائی کی ہے

گذشتہ ہفتے انھوں نے کہا کہ سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام مسلمان ہونے کے باوجود پکے قوم پرست تھے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے لیے دیر رات تک گھر سے باہر رہنا ہندوستانی ثقافت اور تہذہب کا حصہ نہیں ہے اور یہ ’بھلے ہی دوسرے ملکوں میں ٹھیک ہو، لیکن ہندوستانی تہذیب کا حصہ نہیں ہے۔‘

سوشل میڈیا پر تو مہیش شرما کو سخت تنقید کا سامنا تھا ہی، اب اخبار بھی ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایک انٹرویو میں جب مہیش شرما سے پوچھا گیا کہ کیا وزیر اعظم ان کے نظریات سے اتفاق کرتے ہیں، تو انھوں نے کہا: ’میں ٹیم مودی کا رکن ہوں، وہ ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور ہم اس پر عمل کرتے ہیں۔‘

خود وزیر اعظم جب جون میں بنگلہ دیش گئے تھے، تو انھوں نے کہا تھا: ’عورت ہونے کے باوجود ’بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مستعدی سے کارروائی کی ہے۔‘

Image caption تسلیمہ نسرین کہتی ہیں کہ اگر انھوں نے بھی احمد کی گھڑی دیکھی ہوتی تو وہ بھی اسے بم ہی سمجھتیں

خود نریندر مودی ہی بہتر جانتے ہیں کہ ان کے کہنے کا مطلب کیا تھا لیکن سب سے حیرت انگیز بیان بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے دیا ہے جو عرصے سے یہاں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

نشانے پر 14 سال کے احمد محمد ہیں جنھیں ’بم‘ بنانے کے شبے میں گذشتہ ہفتے امریکہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ ایک ڈیجیٹل گھڑی بنا کر اپنے ٹیچروں کو دکھانے کے لیے سکول لائِے تھے، ان کی ایک ٹیچر کو لگا کہ یہ گھڑی دیکھنے میں بم جیسی نظر آتی ہے، لہٰذا پولیس کو طلب کیا گیا اور پولیس نے احمد محمد کو ہتھکڑی لگائی اور اپنے ساتھ لے گئی۔‘

امریکی صدر براک اوباما سے لے کر فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ تک بڑی تعداد میں لوگوں نے احمد کا ساتھ دیا۔ اوباما نے انھیں وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی، دنیا کے سرکردہ تعلیمی ادارے ایم آئی ٹی نے کہا کہ اسے احمد جیسے طالب علموں کی تلاش رہتی ہے، گوگل نے کہا کہ وہ جب چاہیں انٹرن شپ کے لیے آ سکتے ہیں۔

لیکن تسلیمہ نسرین نے کہا کہ اگر انھوں نے بھی احمد کی گھڑی دیکھی ہوتی، تو احمد کے اساتذہ کی طرح وہ بھی اسے بم ہی سمجھتیں۔ ’لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ مسلمان بم نصب کرتے ہیں؟ کیونکہ یہ کام وہی کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں