’افغان بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو نظرانداز کرنے کا حکم نہیں دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’میں اس بات کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جنسی ہراس کسی صورت قبول نہیں ہے‘

افغانستان میں سینیئر نیٹو کے کمانڈر نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ امریکی وزارت دفاع نے امریکی فوجیوں کو افغان پولیس اور ملیشیا کے ہاتھوں کم عمر لڑکوں کی جنسی ہراس کو نظر انداز کرنے کا کہنا تھا۔

جنرل جان کیمبل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ افغانستان میں کئی بار تعینات رہے ہیں اور پینٹاگون کی ایسی کوئی پالیسی کا وجود نہیں ہے۔

افغان ملیشیا اور پولیس کے ہاتھوں کم عمر لڑکوں کے جنسی ہراس اور امریکی فوجیوں کو اس بات کو نظر انداز کرنے کی خبر نیو یارک ٹائمز آن سنڈے میں چھپی ہے۔

اخبار نے اس خبر میں کئی امریکی فوجیوں اور 2012 میں مارے جانے والے امریکی میرین کے والد کا حوالا دیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے امریکی فوجی کے والد اریگری بکلےنے کہا ’میرے بیٹے کو اس کے افسران نے کہا کہ اس بات کو نظر انداز کر دو کیونکہ یہ ان کی تہذیب ہے۔‘

اخبار کے مطابق افغانستان میں کم عمر بچوں کو جنسی ہراس کرنے ایک مسئلہ ہے اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں کمانڈروں کے ہاتھوں۔

اخبار نے کئی عینی شاہد فوجیوں سے انٹرویو کا حوالا دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی فوجیوں اور میرینز کو حکم دیا گیا تھا کہ اس میں مداخلت نہ کریں چاہے یہ عمل فوجی اڈوں ہی میں کیوں نہ ہو رہے ہوں۔

نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے ’اس حکم سے امریکی فوجی کافی پریشان تھے کہ بجائے اس کے کہ ہم بچوں سے جنسی زیادتی کو ختم کریں ہم انہی لوگوں کو مسلح کر کے دیہاتوں میں کمانڈر تعینات کر رہے ہیں۔‘

اخبار کے مطابق کہ امریکہ کی اس معاملے میں مداخلت نہ کرنے کی وجہ امریکی تربیت یافتہ افغان پولیس اور ملیشیا سے اچھے تعلقات رکھنا تھی۔

یاد رہے کہ 2008 میں اسی قسم کے الزامات کینیڈا کی فوج نے بھی لگائے تھے۔

تاہم جنرل کیمبل نے بیان میں کہا ہے کہ اس میڈیا رپورٹ پر انھوں نے افغان صدر اشرف غنی سے تبادلہ خیال کیا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں۔

’میں اس بات کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جنسی ہراس کسی صورت قبول نہیں ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجی کسی قسم کی جنسی ہراس کی اطلاع اپنے افسران کو دی اس سے قطع نظر کہ ایسا کرنے والا کون ہے۔‘

جنرل کیمبل نے بیان میں کہا ہے ’میں نے ذاتی طور پر افغان صدر اشرف غنی سے بات کی ہے اور انھوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ افغان حکومت بچوں یا کسی بھت افغان شہری کی جنسی ہراس کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور ایسے معاملے کی تحقیقات ہوں گی اور شخت سزا دی جائے گی۔‘

اسی بارے میں