’پاکستان سے تعلقات برادرانہ نہیں بلکہ دو ریاستوں کے ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ایک ہی موقف اپنانا چاہیے قطع نظر اس کے کہ نشانہ وہ خود ہو یا پھر کوئی اور ملک۔

اقتدار سنبھالنے کا ایک سال پورا ہونے پر بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات برادرانہ نہیں بلکہ دو ریاستوں کے تعلقات ہیں۔

’قیامِ امن کے لیے طالبان سے پہلے پاکستان سے بات چیت ضروری‘

قندوز پر طالبان کا تین اطراف سے حملہ

اشرف غنی نے کہا کہ ’اصل بات یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک ہی موقف اپنائے اس سے قطع نظر کہ دہشت گردی میں کونسا گروہ ملوث ہے۔ وہ ایسا تو نہیں کر سکتے کہ اپنے ملک میں تو دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اپنائیں لیکن جو افغانستان کو برباد کر رہے ہیں ان کے لیے الگ موقف ہو۔‘

معاشی ترقی اور امن کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں افغان صدر نے کہا کہ ’میری ڈکشنری میں دو ریاستوں کے درمیان تعلقات میں مایوسی کا لفظ نہیں ہے، ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات دو نوجوانوں بھائیوں کے باہمی تعلق جیسے نہیں ہیں بلکہ یہ دو ریاستوں کے تعلقات ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اس (دہشت گردی) مسئلے کے سلسلے میں ہمارے جواز کو تسلیم کر چکا ہے جو یہ ہے کہ وہ غیر اعلانیہ طور پر 13 برس سے زیادہ عرصے تک ہماری ریاست کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کی حالت میں رہا۔‘

اشرف غنی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کو بنیادی امن قرار دیا اور کہا کہ ’جب تک امن کا حصول نہیں ہوتا تو (دہشت گردوں کی) پناہ گاہیں بھی رہیں گی اور ان کی مدد کا نظام بھی موجود رہے گا۔‘

افغان صدر نے طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کا تذکرہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب پیر کوطالبان نے شمالی افغانستان کے شہر قندوز پر حملہ کیا ہے جبکہ دولتِ اسلامیہ کے وفادار شدت پسندوں نے اتوار کومشرقی صوبے ننگر ہار میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا وہ پاکستان کو عالمی برادری کا ذمہ دار رکن سمجھتے ہیں ان کا کہنا تھا ’ہمارے موقف کو خطے اور عالمی سطح پر قبولیت ملی ہے اور دوسرے یہ انتخاب کرنے کی بات نہیں۔ دہشت گردی پاکستان کے لیے بھی اتنا بڑا خطرہ ہے جتنا کہ افغانستان کے لیے۔ پشاور کے بچے اور ان کے فوجی ان کے لیے یاددہانی ہے کہ دہشت گردی کے معاملے میں اچھی یا بری کی تمیز نہیں کی جا سکتی۔‘

Image caption افغانستان میں حالیہ دنوں طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے

افغان صدر نے طالبان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتخاب کریں کہ آیا وہ افغان ہیں یا عالمی شدت پسندی اور علاقائی تسط کے آلۂ کار ہیں۔

’اگر وہ افغان ہونے کا انتخاب کرتے ہیں، اور مجھے بہت زیادہ امید ہے کہ وہ افغان ہونے کا ہی انتخاب کریں گے، اور پھر یہاں امن آئے گا۔ اور ایسا نہیں ہے تو وہ تنہا رہ جائیں گے کیونکہ ان کی حمایت کوئی نہیں کرے گا۔ انھیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر بچوں اور معصوم لوگوں کو قتل کرنے پر وہ کس قدر غیر مقبول ہو چکے ہیں۔ معاشرہ جنگ سے تنگ آ چکا ہے اور یہ امن چاہتا ہے۔‘

افغان تارکین وطن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان عام طور پر عدم تحفظ اور ابتری کا شکار معیشت جیسی وجوہات کی بنا پر ملک چھوڑتے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ افغانستان کو 2002 سے ملنے والی مالی مدد کے برعکس سابق صدر اور ان کی حکومت کے لیے ملازمتیں پیدا کرنا ترجیح نہیں رہا ہے اور ایسی معیشت ورثے میں ملی جو شدید مالی بحران سے دوچار تھی۔

اشرف غنی کے مطابق افغان تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ یورپ کے وہ غلط تصورات بھی ہیں کہ ’وہاں کی گلیاں خوشحالی کی نوید ہیں۔‘

یورپ اور شمالی امریکہ میں دس لاکھ افغان شہری سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان میں سے ہزاروں کی رشتہ داریاں ہیں اور’یورپ کی یہ شبیہ بھی ہے کہ وہاں کی گلیاں سونے سے مزین ہیں اور یہ پرکشش لگتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں شرح غربت 36 فیصد ہے۔ بہت زیادہ بے روزگاری اور پس پردہ غربت بھی ہے۔‘

افغان صدر نے کہا ہے کہ اقتصادی ترقی کے لیے سکیورٹی بنیادی چیز ہے اور امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک طالبان کی پناہ گاہیں موجود ہیں۔

اسی بارے میں