بنگلور کی بیلانڈرو جھیل کی زہریلی جھاگ

تصویر کے کاپی رائٹ Debasish Ghosh
Image caption یہ زہریلا جھاگ اتنا اونچا اٹھتا ہے کہ آس پاس کے علاقوں تک پھیل جا تا ہے

کیا بھارت کے جنوبی شہر بنگلور میں برفباری ہوئی ہے؟

اوپر کی تصویر دیکھ کر آپ کو بالکل ایسا ہی لگے گا لیکن بدقسمتی سے حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ یہ تکلیف دہ سفید رنگ کی برف نما وہ زہریلی جھاگ ہے جو شہر کی مرکزی جھیل سے بہہ کر باہر آجاتی ہے اور آس پڑوس میں پھیل جاتی ہے۔

تقریباً نو ہزار ایکڑ میں پھیلی بیلانڈرو جھیل گذشتہ چند برسوں میں کیمائی مواد اور گندے نالوں کے وجہ سے بری طرح آلود ہوگئی ہے۔

آئی ٹی پروفیشنل دیباشیش گھوش کئی ماہ سے اس کی تصویریں لیتے رہے ہیں اور انہیں تصاویر میں سے بعض یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔

Image caption جھیل میں فیکٹریوں کا کیمیائی مادہ آتا ہے اور گندے نالے بھی اسی میں کھلتے ہیں، دونوں کا پانی ٹکرانے سے یہ جھاگ بناتا ہے
Image caption برسات کے موسم میں صورتحال مزید خراب ہوجاتی ہے جب ہوائیں چلتی ہیں اور اس سے یہ زہریلا مادا فضا میں اڑنے لگتا ہے
Image caption مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی صفائی کے لیے انتظامیہ کچھ بھی نہیں کر رہی۔ بعض لوگوں نے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے
Image caption دیباشیش گھوش کا کہنا ہے کہ اس جھاگ سے بڑی خراب متعفن بو آتی ہے لیکن مقامی لوگوں کے پاس اسے برداشت کرنے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے
Image caption تقریباً 15 برس قبل اس کے خلاف کارروائی کے لیے قانونی اقدامات اٹھائے گئے تھے لیکن اب تک کوئي کارروائی نہیں ہوئی
Image caption مئی میں اس جھیل میں دو بار آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ فیکٹریوں کا جو مواد گرتا ہے اس میں ڈیٹیرجنٹ، تیل اور کریس شال ہوتی ہے
Image caption اس جھاگ سے ایئر پورٹ جانے والا ایک روڈ بھی متاثر ہوتا ہے جو اس جھیل کے پاس سے گزرتا ہے