بچوں اور بوڑھوں کے ایورسٹ پر جانے پر پابندی کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایوریست سر کرنے کے لیے دنیا بھر سے کوہ پیما آتے ہیں

نیپال کی حکومت کم عمر، ضعیف اور معذور افراد کے ماؤنٹ ایورسٹ پر مہم جوئی کے لیے جانے پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق ان نئی تجاویز کے تحت 18 سال سے کم عمر اور 75 سال سے زیادہ عمر کے کسی بھی فرد کو ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

وزارت سیاحت اس بات پر بھی زور دے رہی ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ آنے والے افراد کو ماضی میں کوہ پیمائی کا تجربہ بھی ہونا چاہیے۔

نیپال ہر سال ماؤنٹ ایورسٹ کے ذریعے لاکھوں ڈالر کماتا ہے لیکن پھر بھی اس پر خراب انتظامات کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے۔

سنہ 2014 میں ایک حادثے کے دوران 16 شرپا کی ہلاکت اور رواں سال شدید زلزلے کے بعد یہاں کوہ پیمائی روک دی گئی تھی۔

گذشتہ دہائی کے دوران بہت سے افراد نے دنیا کے اس بلند ترین پہاڑ کو سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں لیکن اب حکومت اس عمل کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Universal Pictures
Image caption رواں سال آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں 18 کوہ پیما ہلاک ہو گئے تھے

ماؤنٹ ایورسٹ پر قدم رکھنے والے کم عمر ترین نوجوان کی عمر 13 سال اور اور سب سے بوڑھے شخص کی عمر 80 سال ہے۔

محکمہ سیاحت کے سربراہ گوویندا کرکی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کسی بھی ایسے شخص کو پرمٹ جاری نہیں کر سکتے ہیں جو دیکھ نہیں سکتا یا چل نہیں سکتا یا اس کے ہاتھ نہیں ہیں۔‘

’کوہ پیمائی کوئی مذاق نہیں ہے۔ یہ امتیازی سلوک کا مسئلہ نہیں ہے۔ بنا ٹانگوں کے آپ کیسے کوہ پیمائی کر سکتے ہیں۔ کسی نہ کسی کو آپ کو اٹھا کر لے جانا پڑے گا۔ ہم پہاڑی کو سب کے لیے محفوظ بنانا چاہتے ہیں، لہٰذا ہمیں بعض قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔‘

گوویندا کرکی نے یہ بھی کہا کہ حکومت ایسے کوہ پیماؤں کو پرمٹ جاری کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے جنھوں نے ماضی میں بھی 21300 فٹ سے زیادہ اونچائی والی پہاڑی سر کی ہو۔

گذشتہ ہفتے جاپانی کوہ پیماہ نوبوکازو کوریکی نے پہاڑی سر کرنے کی کوشش کو ترک کر دیا تھا۔ وہ ماضی میں سردی کے باعث اپنی نو انگلیاں پہلے ہی گنوا چکے ہیں۔

اسی بارے میں