’قندوز میں کوئی سو نہیں سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قندوز میں شدید لڑائی کے بعد شہری نقل مکانی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

گذشتہ پیر کو افغانستان کے شہر قندوز پر طالبان کے قبضے کے بعد سے شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ علاقے پر قبضہ واپس حاصل کرنے کے لیے اتحادی فوج کی قیادت میں افغان سکیورٹی فورسز شدت پسندوں پر فضائی حملے کر رہی ہیں۔

قندوز کے رہائشی رات بھر جاری رہنے والی بمباری کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ یہ ہیں ان میں سے کئی عینی شاہدین کی کہانیاں۔

طالبان کا قندوز پر قبضہ مزید مضبوط ہو گیا

قندوز میں طالبان کی’سیلفیز‘ کا مقصد کیا ہے؟

ویڈیو: قندوز پر طالبان کا قبضہ

29 سالہ محمد یقوب، طالب علم

’کوئی سو نہیں سکتا‘

’’پچھلے دو دنوں میں یہاں شدید لڑائی جاری ہے لیکن بدھ کی دوپہر کو لڑائی نے شدت اختیار کر لی۔ کچھ دیر بعد لڑائی کم ہو گئی۔ اس کے بعد علاقے کے پولیس کے سربراہ اور ضلعی سربراہ سمیت سارے اہلکار علاقے کو چھوڑ کر شیر خان بندر کی طرف نقل مکانی کر نے لگے جو کہ تاجکستان کے ساتھ سرحد پر ہے۔

سکیورٹی اہلکار ایک بھی گولی چلائے بغیر ہی چلے گئے۔ تقریباً 15 منٹ بعد طالبان نے علاقے میں آ کر پولیس کے مرکزی تھانے پر اپنا سفید پرچم لہرا دیا۔

ساری دکانیں بند ہیں۔ بازار بھی بند ہیں اور کسی کی بھی باہر آنے کی مجال نہیں ہے۔ کوئی سو نہیں سکتا۔ طالبان سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں اور سب انتظار کر رہے ہیں کہ آگے کیا ہو گا۔

مقامی طالبان ہمیں جانتے ہیں لیکن ہمیں ان کے ساتھ لڑنے والے غیر ملکی شدت پسندوں سے ڈر لگتا ہے۔‘‘

تصویر کے کاپی رائٹ Shahid Attiqullah
Image caption کارٹونسٹ شاہد عتیق اللہ نے قندوز میں ہونے والے تشدد اور لوٹ مار کو اس تصویر میں دکھانے کی کوشش کی ہے

37 سالہ محمد، تاجر

’کئی لوگ نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں‘

’’شہر پر ابتدائی حملہ بہت جلد ہوا۔ طالبان راکٹ لانچر اور اے کے 47 بندوقیں پکڑے ہوئے نظر آئے اور سکیورٹی اہلکار تو بس جیسے غائب ہی ہو گئے۔ صبح تک طالبان شہر کے مرکز تک بھی پہنچ گئے۔

انھوں نے میگا فون کے ذریعے لوگوں کو کہنا شروع کر دیا کہ وہ اپنی دکانیں کھولیں اور روزمرہ کی زندگی دوبارہ شروع کردیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

شروع میں کچھ لوگ یہ دیکھنے کے لیے باہر آئے کہ کیا ہو رہا تھا لیکن اس کے فوراً بعد وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ اس کے بعد سے کم ہی لوگ باہر آئے ہیں۔

کچھ خاندانوں کو ابھی سے خوراک کی قلت ہے۔ اور جن کے چولہے باہر ان کے صحنوں میں ہیں وہ علاقے میں شدید گولہ باری کی وجہ سے باہر کھانا پکانے سے خوف زدہ ہیں۔

میں خود اپنے رشتہ دار کے گھر میں رہنے آگیا ہوں کیونکہ میں زیادہ لوگوں کے ارد گرد محفوظ محسوس کرتا ہوں۔

میرے چھوٹے بچوں کو رات بھر نیند نہیں آئی اور میرا ایک سال کا بچہ جو ابھی صحیح طرح بات بھی نہیں کر سکتا، اس نے مجھ سے پوچھا، ’پھر سے جنگ؟‘

کئی لوگ شہر سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں بدھ کی صبح کو ٹیکسی اڈے تک پہنچ پایا۔ مجھے گولہ باری سے بچنے کے لیے چھوٹی سڑکیں اور گلیاں لینا پڑیں۔ باہر بہت کم گاڑیاں نظر آرہی تھیں اور تخار کے صوبے تک لے کر جانے کے لیے ڈرائیور ہم سے معمول کے کرائے سے پانچ گنا زیادہ رقم لے رہے تھے۔

کئی لوگ روتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔‘‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter SalehaSoada
Image caption نامہ نگار صالحہ سعادت نے طالبان کی جانب سے ایک ہسپتال پر محاصرے کی تصاویر شیئر کی ہیں

45 سالہ، ڈاکٹر

’کئی لوگوں کو گولیاں لگی ہیں‘

’’یہاں پر ہمارا ہسپتال بڑا ہے اور ہمارے پاس 200 بستر موجود ہیں۔ لیکن اتنے زیادہ زخمی آ رہے ہیں کہ انھیں سنبھالنا مشکل ہوگیا ہے۔ ہم نے کچھ مریضوں کو برآمدوں میں لٹا دیا ہے کیونکہ ہمارے پاس ان کو رکھنے کے لیے مزید بستر ہی نہیں ہیں۔

طالبان کسی ڈاکٹر کو ہسپتال سے باہر جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ ہماری حفاظت کریں گے لیکن ہمیں کام جاری رکھنا پڑے گا۔

خواتین ڈاکٹر بھی یہاں موجود ہیں۔ میرے کچھ ساتھی دو دنوں سے اپنے گھروں کو نہیں لوٹے ہیں۔‘‘

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption افغان حکومت کا کہنا ہے وہ قندوز میں اپنی افواج کو بھیج رہی ہے

40 سالہ ایوب خان، دکاندار

’ہمارے بچے بہت خوف زدہ تھے‘

’’بدھ کو میں اپنے گھر سے نکل پایا۔ میرے ارد گرد شدید لڑائی چل رہی تھی اور سڑکیں بھی بند تھیں۔ کئی لوگ شہر سے نکل کر خانہ باد کے محلے کی طرف جانے کی کوشش کر رہے تھے جو اب بھی حکومت کے زیر انتظام ہے۔

ہمارے بچے لڑائی اور گولہ باری کی آواز سے بہت خوف زدہ تھے۔ ہم نے طالبان کو موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر شہر بھر میں آتے جاتے دیکھا۔ یہ معمول کی صورت حال بالکل نہیں تھی۔

ٹیکسی اڈے پر جب بھی کوئی گاڑی آتی تو لوگ اس کی طرف بھاگ پڑتے تھے۔ لیکن لفٹ کے لیے بہت لوگ انتظار کر رہے تھے۔ طالبان نے شہر کے مضافات پر چوکیاں بنا لی تھیں اور سڑکوں پر بارودی سرنگیں بچھا دی تھیں تا کہ لوگ علاقہ چھوڑ کر نہ جاسکیں اور سکیورٹی فورسز وہاں داخل نہ ہوسکیں۔ انھوں نے ہمیں روک کر پوچھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ میں نے کہا ہم خانہ باد جا رہے ہیں اور انھوں نے ہمیں جانے دیا۔

انھوں نے کچھ زیادہ بات نہیں کی۔ جب آپ کے ساتھ خواتین اور بچے ہوتے ہیں تو وہ آپ کو چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘