’مالدیپ کے صدر کی کشتی میں دھماکہ ایک قاتلانہ حملہ تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خاتون اوّل فاطمہ ابراہیم سمیت تین افراد اس دھماکے میں زخمی ہوئے تھے

مالدیپ میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ صدر عبداللہ یامین کی کشتی میں ہونے والا دھماکہ ایک قاتلانہ حملہ تھا۔

مالدیپ کے ایوانِ صدر کے وزیر محمد حسین شریف کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد دو فوجی اہلکاروں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

مالدیپ کے صدر کی کشتی میں دھماکہ

28 ستمبر کو ہونے والے دھماکے میں صدر یامین تو بال بال بچے تھے تاہم ان کی اہلیہ سمیت تین افراد زخمی ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ محمد حسین شریف نے گذشتہ ہفتے ہی اس دھماکے اور ملک میں سیاسی بےچینی کے درمیان کسی بھی تعلق سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی وجہ تکنیکی خرابی تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کو مذکورہ وزیر نے کہا ہے کہ تکنیکی خرابی کا اندازہ درست نہیں اور امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے علاوہ، سعودی، آسٹریلوی اور سری لنکن تحقیقاتی ٹیموں نے بھی انھیں بتایا ہے کہ ’اس بات کے پختہ ثبوت موجود ہیں کہ یہ صدر کی جان لینے کی کوشش تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دھماکے کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہیں

محمد حسین شریف کے مطابق ’حکام نے دو ایسے اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے جنھیں کشتی تک رسائی تھی۔‘

خیال رہے کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا تھا جب صدر یامین حج کی ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے واپسی پر مالے کے قریب ایک جزیرے پر واقع ہوائی اڈے سے دارالحکومت جا رہے تھے۔

خاتون اوّل فاطمہ ابراہیم کے علاوہ صدر یامین کی حفاظت پر مامور ایک اہلکار اور محمد شریف کے عملے کا ایک رکن اس واقعے میں زخمی ہوئے تھے۔

59 سالہ عبداللہ یامین 2013 میں مالدیپ کے صدر بنے تھے اور رواں برس مارچ میں ان کے پیشرو سابق صدر محمد نشید کو اقتدار کے دوران ایک جج کی گرفتاری پر متنازع مقدمے کے بعد 13 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اسی بارے میں