اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’آج بھی لوگ اپنا قصور پوچھ رہے ہیں‘

کشمیر میں سنہ 2005 کے زلزلے نے ایک پوری نسل کو ختم کر دیا۔یہ قدرتی آفت جب آئی تو اس وقت سکولوں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد میں بچے بھی شامل تھے۔بالاکوٹ کے شہر میں بھی سینکڑوں بچے شاہین سکول کی زمین بوس ہونے والی عمارت کے نیچے پھنسے ہوئے تھے۔ ہمارے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی زلزلے کے فوری بعد علاقے میں پہنچنے والے پہلے صحافیوں میں سے ایک تھے جنھوں نے وہاں کی تباہی اور اموات پر رپورٹنگ کی تھی۔ دس سال بعد وہ واپس بالاکوٹ آ کر زلزلے سے بچ جانے والے متاثرین سے ملے۔