دادری: متاثرہ خاندان گاؤں چھوڑنا چاہتا ہے

اخلاق احمد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اخلاق احمد کو ایک ہجوم نے ان کے گھر پر حملہ کر کے ہلاک کر دیا تھا

بھارتی ریاست اتر پردیش کے دادری میں گائے کےگوشت کی افواہ پر ہلاک کیےگئے اخلاق احمد کا خاندان اپنے آبائی گاؤں بساہڑا کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

اخلاق احمد کے بیٹے سرتاج نے اس سے متعلق بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا: ’ملازمت پر رہتے ہوئے خاندان کی حفاظت کے بارے میں میرے دل میں خوف رہےگا۔‘

بھارتی فضائیہ میں کام کرنے والے سرتاج نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ خاندان کو یا تو فضائیہ کے احاطے میں رکھا جائے یا پھر انتظامیہ کی مدد سے کسی اور جگہ پر منتقل کر دیا جائے۔

گذشتہ دنوں دارالحکومت دلی کے نواحی علاقے دادری کے بساہڑا گاؤں میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر سرتاج کے والد اخلاق احمد کو ایک ہجوم نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے میں زخمی ہونے والے سرتاج کے بھائی دانش کا اب بھی ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔

‎’گھر نہیں چھوڑیں گے'

Image caption سرتاج کے مطابق گاؤں چھوڑنے کے لیے ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور انہیں خود اپنی حفاظت کے تعلق سے خدشات اور خوف ہے۔

سرتاج کہتے ہیں: ’میں اپنے گھر کو تو چھوڑنے والا ہوں نہیں، کیونکہ اس سے میری یادیں وابستہ ہیں۔ میرے دادا، پردادا وہاں رہے ہیں۔ لیکن جب تک دانش ٹھیک نہیں ہو جاتا اور کچھ دیگر معاملے حل نہیں ہو جاتے اس وقت تک میں خاندان کو کسی اور دوسری جگہ پر رکھنا چاہوں گا۔‘

فی الحال چنئی میں تعینات سرتاج کا کہنا ہے کہ ابھی انہوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ ان کا خاندان کہاں جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ گاؤں چھوڑنے کے لیے ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے، بلکہ خود انہیں اپنی حفاظت کے تعلق سے خدشات اور خوف ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’خاندان کو چینئی لے جانا بھی درست نہیں ہے۔ جس طرح کے حادثے سے خاندان گزرا ہے ایسے میں گھر والوں کے علاوہ رشتہ داروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔‘

سرتاج نے کہا ہے کہ وہ اس کے لیے انتظامیہ سے مدد کے لیے فریاد کریں گے۔

اسی بارے میں