’میں طالبان کے نرغے سے کیسے بچ نکلا‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عبدل کا کہنا ہے کہ اس نے قندوز میں قتل عام کے شواہد دیکھے ہیں

بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک افغان طالبعلم نے قندوز کے نزدیک طالبان سے اپنی جان بچ جانے کی روداد سنائی ہے۔

عبدل (یہ ان کا پورا نام نہیں ہے) نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ہم عمر نوجوان طالبان جنگجو کی مداخلت کے بعد ہی وہ وہاں سے اپنی جان بچا کر آنے میں کامیاب ہوئے۔

اس واقعے میں ان کا ہاتھ بھی زخمی ہوا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے افغانستان کے شمالی شہر قندوز پر قبضے کے دوران طالبان پر لوگوں کو ہلاک کرنے اور جبر و زیادتی کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ گذشتہ ہفتے قندوز شہر کئی روز تک طالبان کے قبضے میں رہا تھا تاہم بعد میں افغانستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے قبضہ ختم کروانے کے لیے وہاں پہنچ گئے تھے۔

کابل میں عید کی چھٹیاں گزارنے کے بعد عبدل شمالی صوبے تخار میں اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی پڑھائی کا حرج ہو جبکہ حکام کی جانب سے بھی کہا جا رہا تھا کہ قندوز پر ان کا قبضہ بحال ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے سفر کے پُر خطر ہونے کی تنبیہہ کو نظرانداز کر دیا تھا۔

کابل سے تخار کا راستہ قندوز سے ہو کر گزرتا ہے جبکہ لڑائی کے باعث ہزاروں افراد علاقے میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

قندوز پر طالبان کے قبضے کے ایک ہفتے بعد عبدل نے اپنے سفر کاآغاز اتوار کے روز کیا تھا۔ سنہ 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس تنظیم کی جانب سے کسی صوبائی دارالحکومت پر قبضے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption افغان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ قندوز شہر کو طالبان کے قبضے سے آزاد کر لیاگیا ہے

تخار میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے عبدل نے بتایا کہ ’جب میں نے گاڑی کرائے پر لی تو اس کے ڈرائیور نے مجھ سے کہا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہ طالبان کے کچھ لوگوں کو جانتے ہیں۔

’پورے سفر کے دوران ڈرائیور اپنے فون پر کچھ لوگوں سے گفتگو کرتے رہے جو بظاہر طالبان معلوم ہوتے تھے اور مجھے یقین دہانی کرائی کہ کچھ نہیں ہو گا۔‘

عبدل ابھی بھی دہشت زدہ لگتے ہیں۔ بی بی سی کو اپنے سفر کی تفصیلات بتاتے ہوئے وہ بے دھیانی میں بار بار زخمی انگوٹھے والے ہاتھ کو دباتے نظر آتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جب گاڑی قندوز میں داخل ہوئی تو چوراہے پر افغان پرچم لہرا رہا تھا تاہم انھیں افغان حکومت کا کوئی نمائندہ نظر نہیں آیا۔

تمام مسافروں کو تخار پہنچانے کے بجائے ڈرائیور نے انھیں شمال کی سمت میں شہر کے مضافات میں اتار دیا تھا جس کے بعد وہ دوسری سواری کا انتظام کرنے پر مجبور ہوگئے۔

شہر سے باہر نکلتے ہوئے علاقے پر ممکنہ طور پر طالبان کے قبضے کے پیش نظرعبدل زیادہ پریشانی کا شکار ہو گئے تھے۔

انھوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’تخار کی جانب جانے والی سڑک پر ہر طرف طالبان نظر آ رہے تھے۔ مجھے سڑک کے کنارے لاشیں بھی نظر آئیں جن میں سے تعفّن اٹھ رہا تھا۔ لاشیں زیادہ تر نوجوانوں کی تھیں جن کی عمریں 20 سال سے زیادہ نہیں لگتی تھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہری قندوز شہر کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں

دو مختلف جگہوں پر سڑک پر کھڑی رکاوٹیں عبور کرنے کے بعد طالبان نے ان کی گاڑی کو روک لیا تھا اور مسافروں سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔

انھوں نے بتایا کہ ’وہ ہم سے پوچھ رہے تھے کہ ہم وہاں کیا کر رہے ہیں، میں نے انھیں بتایا کہ میری طبعیت ناساز ہے اور میں اپنا علاج کروانے کے لیے کابل گیا تھا۔‘

مسافروں کو مزید پوچھ گچھ کے لیے نزدیکی ہوٹل لے جایا گیا تھا جو طالبان کے زیر استعمال تھا۔

عبدل نے بتایا کہ ان پر حکومت کے لیے کام کرنے کا الزام لگایا گیا اور ان کی کمر پر دوبار پاؤں سے ٹھوکر بھی ماری گئی تھی۔

انھوں مزید کہا کہ ’میں نے انھیں بتایا کہ میں حکومت کے لیے کام نہیں کرتا، لیکن میرے رونے اور گڑگڑانے کے باوجود بھی انھوں نے مجھے نہیں چھوڑا۔‘

عبدل نے بتایا کہ نزدیک ہی نہر بہہ رہی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ تشدد پسند تنظیم کے افراد وہ جگہ لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک شخص کا وہاں سر قلم کیا گیا تھا۔

عبدل کا بیان گذشتہ ہفتے سامنے آنے والی ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جس میں قندوز میں ’طالبان کے ڈیتھ سکواڈ کی جانب سے قتل عام، اجتماعی زیادتی، اور گھر گھر تلاشی‘ کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ مذکورہ معلومات انسانی حقوق کی تنظیم نے شہر چھوڑ کر جانے والے افراد کے بیانات سے اخذ کی تھی۔

دوسری جانب طالبان کی جانب سے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے پیغامات جاری کیے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ خوفزدہ ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔

عبدل کی روداد اس کے بالکل برعکس ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ خود انھیں بھی باہر لے جایا گیا تھا: ’انھوں نے وہاں مجھےزمین پر بٹھا دیا اور میرے گلے پر چاقو رکھ دیا، جب میں نے چاقو پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی تو انھوں نے میرا انگوٹھا کاٹ دیا۔‘

عبدل یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جیسے ہی طالبان نے ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا تھا ان کے دوست نے رونا شروع کر دیا۔

اس ہی وقت عبدل کے ہم عمر ایک نوجوان طالبان نے جذباتی ہو کر مداخلت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طالبان کئی روز تک قندوز پر قابض رہے اور اب بھی شہر کےنزدیکی علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں

عبدل کہتے ہیں کہ ’انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں نے کوئی غلط کام کیا ہے؟ میں نے کہا ’نہیں‘ میں نے ان سے کہا کہ وہ جو کہیں گے میں کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں اتنا خوفزدہ تھا کہ میں نے ان سے کہا کہ میں ان میں شامل ہونے کے لیے بھی تیار ہوں۔‘

یہ تو معلوم نہ ہو سکا کہ کیا وجہ تھی لیکن عبدل کی جان بخش دی گئی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ ’انھیں جانے کے لیے کہا گیا اور کہا گیا کہ مڑ کے مت دیکھنا۔‘ انھوں نے بتایا کہ تخار پہنچنے پر ڈاکٹر نے ان کے زخم کا علاج کیا جبکہ زخم میں دس ٹانکے لگے تھے۔ تخار تک پورا راستہ ان کے ہاتھ سے خون بہتا رہا تھا۔

وہ کہتے ہیں ’اب میں جب بھی چاقو دیکھتا ہوں مجھے لگتا ہے کہ میں بے ہوش ہو جاؤں گا۔‘

عبدل نے حکام پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے قندوز میں امن و امان کی صورت حال کے بارے میں سچ نہیں بتایا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’میں حکومت سے صرف اتنا کہوں گا کہ وہ جھوٹ نہ بولیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے لوگ غلط فہمی کا شکار ہو جائیں گے اور سمجھیں گے کہ قندوز پر حکومت کا قبضہ ہے جس سے انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔‘

اسی بارے میں