چار سالہ بچی کا ریپ، دو افراد سے تفتیش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رواں سال بھارت میں ریپ کے 1500 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں

بھارتی پولیس دارالحکومت دہلی میں گذشتہ جمعے کو چار سالہ بچی کے ساتھ ہونے والے جنسی زیادتی کے کیس کے سلسلے میں دو افراد سے تفتیش کر رہی ہے۔

چلتی بس میں جنسی زیادتی کی کوشش

’انڈیاز ڈاٹر‘ پر پابندی

ڈپٹی کمشنر پولیس ویجے سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک اس کیس میں کسی کو بھی حراست میں نہیں لیا گیا۔

خیال رہے کہ چار سالہ بچی جمعے کی شب کو ریل کی پٹری کے قریب بے ہوش ملی تھی۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس وقت وہ ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرِ علاج ہے اور شدید زخموں کی وجہ سے بچی کا آپریشن کیا گیا ہے۔

سنہ 2012 میں دہلی میں گینگ ریپ کے واقعے کے بعد اب ایک مرتبہ پھر وہاں خواتین کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

متاثرہ بچی کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اسے چند مردوں نے کھانے کی کوئی چیز دینے کے بہانے ورغلایا۔

دہلی میں خواتین کے لیے کام کرنے والی کمشنر سواتی ماہیوال نے کہا ہے کہ بچی کو لرزہ انگیز طریقے سے متاثر کیا گیا ہے۔

سنہ 2012 میں ریپ کے واقعے کے بعد ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں ملک میں نیا قانون بھی بنا تھا۔ تاہم ملک بھر میں اس کے بعد بھی بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے رپورٹیں سامنے آتی رہی ہیں۔

سنہ 2014 میں دہلی میں ایک ٹیکسی ڈرائیور نے ایک خاتون کا ریپ کیا۔ جبکہ جولائی میں دو افراد نے حراست کے دوران اعتراف کیا کہ انھوں نے دہلی کے گردو نواح میں کم و پیش 30 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

رواں سال اب تک ریپ کے 1500 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ بہت سے کیس اب تک رپورٹ ہی نہیں ہوئے۔

اسی بارے میں