کس کی غلطی؟ پوسٹ مارٹم سےعین قبل لاش زندہ ہوگئی

Image caption لک مانیہ تلک ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کا عمل شروع ہونے والا ہی تھا کہ جب اس شخص نے اپنی آنکھیں کھول کر ڈاکٹر اور ہسپتال کے دیگر ملازموں کو حیرت میں ڈال دیا

بھارت کے صنعتی شہر ممبئی کے سائن علاقے کے ایک ہسپتال میں پوسٹ مارٹم سے عین قبل ایک لاش کے زندہ ہونے کا منفرد واقعہ پیش آیا ہے۔

ایک شخص کو مردہ قرار دے کر ڈاکٹروں نے ’لاش‘ کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا تھا، لیکن پوسٹ مارٹم سے عین قبل ’مردہ‘ زندہ ہو گیا۔

لک مانیہ تلک ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کا عمل شروع ہونے والا ہی تھا کہ جب اس شخص نے اپنی آنکھیں کھول کر ڈاکٹر اور ہسپتال کے دیگر ملازموں کو حیرت میں ڈال دیا۔

ہسپتال نے اس معاملے میں اپنی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ہسپتال کے ڈین ڈاکٹر سلیمان مرچنٹ نے بی بی سی کو بتایا: ’پولیس نے کہا کہ ہم ایک ’ڈیڈ باڈی‘ لائے ہیں جس کا پوسٹ مارٹم فوری طور پر ہونا ہے کیونکہ ہمیں وی آئی پی کی سکیورٹی کے لیے جلدی جانا ہے۔‘

ڈاکٹر سلیمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو جلد بازی میں ہی چیک اپ کرنا پڑا جس کی وجہ سے یہ غفلت ہو گئی۔‘

جس 42 سالہ شخص کو مردہ سمجھ کر ہسپتال لایا گیا تھا، اس کا نام پرشانت بتایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پولیس نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمیں ایک شخص کے بے ہوش ہونے کی اطلاع ملی تھی جس پر پولیس اس شخص کو لے کر لوک مانیہ تلک جنرل ہسپتال گئی تھی۔‘

اس شخص کے مردہ سمجھے جانے کے معاملے میں کچھ دیگر پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ جیسے یہ کہ معمول کے مطابق لاش کو شعبہ حادثات میں نہیں رکھا گیا اور چیک اپ کے فوراً بعد براہ راست مردہ خانے بھیج دیا گیا۔

اس سلسلے میں ہسپتال کی ڈائری انٹری کے حوالے سے بھی متضاد بیان سامنے آ رہے ہیں۔ اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بعض لوگوں نے بتایا کہ پہلے مردہ خانے کی ڈائری میں اس کے اندراج کی خبر آئی تھی لیکن اب اس کے بارے میں درست اور حتمی معلومات نہیں مل رہیں۔

فی الحال مریض کو آئی سی یو میں سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر سلیمان نے بتایا کہ مریض کی حالت میں بہتری آئی ہے۔

اسی بارے میں