دادری، غلام علی جیسے واقعات افسوسناک ہیں: مودی

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption وزیر اعظم نے ان واقعات پر افسوس تو ظاہر کیا لیکن اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان واقعات میں مرکزی حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست اتر پردیش کے دادری میں گائے کاگوشت کھانے کی افواہ پر محمد اخلاق کے قتل اور ممبئی میں پاکستانی گلوکار غلام علی کے پروگرام کے منسوخ ہو جانے کو افسوسناک قرار دیا ہے۔

بنگلہ زبان کے اخبار ’آنند بازار پتریکا‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم نے ان واقعات پر افسوس تو ظاہر کیا لیکن اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات میں مرکزی حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

دلی سے متصل دادری کے واقعے پر وزیر اعظم نے اب تک کوئی بیان نہیں دیا تھا اور اس معاملے پر ان کی خاموشی کو اپوزیشن نے ایک مسئلہ بنایا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا میں بھی اس مسئلے پر بہت سے لوگ وزیر اعظم پر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔

اس سے پہلے مودی نے گذشتہ ہفتے ریاست بہار میں انتخابی مہم کے دوران دادری واقعے کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ لوگوں کو صدر پرنب مکھرجی کی باتوں پر توجہ دینی چاہیے۔

اس ریلی میں مودی نے کہا تھا: ’آپ سیاست دانوں کی باتیں مت سنیے، خود نریندر مودی کہتا ہے تو اس کی بھی بات بھی مت سنیے۔ سننا ہے تو ملک کے صدر نے کل جو بات کہی ہے اس کو سنیے۔‘

بھارتی صدر پرنب مکھرجی نے گذشتہ بدھ کو نئی دہلی میں منعقد ایک پروگرام میں کہا تھا: ’ہمیں اپنی تہذیب کے بنیادی اقدار کو کھونا نہیں چاہیے۔۔۔ ہماری بنیادی قدریں یہ ہیں کہ ہم نے ہمیشہ تنوع کو تسلیم کیا ہے، اور استحکام اور سالمیت کی وکالت کی ہے۔‘

اسی بارے میں