بھارت میں معصوم ’مقدس گائے‘پر سیاست

Image caption بھارت میں لوگ گائے سے بہت پیار کرتے ہیں

ہندوستانیوں کو گائے سے اتنا پیار کیوں ہے؟

تاریخ دان مُکل کیسوان کے خیال میں اس کی وجہ یہ کہ ’گائے ایک خوبصورت چیز ہے۔‘

بھارت کی سیاست میں گوشت کا بازار

گوشت کھانے کے شبہے میں ایک شخص قتل

گائے کا گوشت اور گتھم گتھا سیاست دان: ویڈیو کلپ

’اس کی بڑی بڑی آنکھیں، اس کا پرسکون مزاج، اس کی سفیدی مائل، سرمئی، خاکستری یا بھورے رنگ کی تانبے جیسی چکمدار جلد، کسی مصور کا تراشہ ہوا جسم، اور اس پر مخصوص کوھان، یہ سب خصوصیات گائے کو تمام جانوروں سے ممتاز کرتی ہیں۔‘

اس کے علاوہ گائے ہندو برادری کی اکثریت کے لیے ایک مقدس جانور ہے اور آپ اسے بھارت کی دھوئیں میں ڈوبی ہوئی سڑکوں پر مزے سے ٹہلتے ہوئے دیکھتے ہیں جہاں کوئی اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا۔

مختلف تہواروں کے دنوں میں گائے کی پوجا کی جاتی ہے اور انھیں خوب سجایا جاتا ہے۔ مذہبی تہواروں سے پہلے مندروں سے منسلک لوگ گائے کی پیشانی پر رنگ لگا کر اسے گلیوں محلوں میں لیے پھرتے ہیں اور خیرات اکھٹی کرتے ہیں۔

نہ صرف یہ، بلکہ بھارت میں ایک رسالہ بھی شائع ہوتا ہے جس کا نام ہے ’انڈین کاؤ‘ یا بھارتی گائے اور ایک خیراتی ادارہ یا ٹرسٹ بھی ہے جس کا نام ’لو فور کاؤ‘ یا گائے سے پیار ہے۔

ایک ہندو قوم پرست جماعت نے بناؤ سنگھار یا میک اپ کی ایک نئی قسم بھی متعارف کرائی ہے جس میں گائے کا پیشاب اور گوبر استعمال کیا جاتا ہے۔

Image caption مختلف تہواروں کے دنوں میں گائے کی پوجا کی جاتی ہے اور انھیں خوب سجایا جاتا ہے

گائے کے نت نئے استعمال سے پہلے دودھ دینے والا یہ جانور بھارتی معاشرے میں مزاح کے مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتا چلا آیا ہے۔

ایک کہانی جو مستند نہ ہونے کے باوجود بہت مقبول ہے، اس کہانی کے مطابق انڈیا کی مشہور افسر شاہی میں بھرتی کے لیے ایک شخص نے جو مضمون بھیجا تھا وہ کچھ یوں تھا:

’گائے ایک کامیاب جانور ہے۔ ایک چوپایہ ہونے کے ساتھ ساتھ، چونکہ یہ جانور ایک مادہ بھی ہے اس لیے یہ دودھ بھی دیتا ہے، لیکن یہ دودھ تبھی دیتا ہے جب یہ بچہ دیتا ہے۔ یہ جانور بھگوان جیسا ہے، جو ہندوؤں کو مقدس ہے جبکہ دیگر انسانوں کے لیے مفید ہے۔ یہ جانور بیک وقت چار ٹانگوں کا مالک ہے، جن میں سے دو ٹانگیں پیش منظر میں ہوتی ہیں اور دو پس منظر میں۔‘

زہر آلود مہم

Image caption مندروں سے منسلک لوگ گائے کو لیکرگلیوں محلوں میں لیے پھرتے ہیں اور خیرات اکھٹی کرتے ہیں

مزاح اپنی جگہ لیکن ہم اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔

بھارت کی زیادہ تر ریاستوں میں گائے کے ذبیحے پر پابندی ہے۔ گائے کے گوشت یا بیف پر پابندی پر تنقید کی جاتی رہی ہے کیونکہ بیف مرغی اور مچھلی سے سستا ہوتا ہے اور یہ گوشت غریب مسلمانوں، قبائلی لوگوں اور دلتوں (جنھیں ماضی میں شودر کہا جاتا تھا) کی خوراک ہے۔

جہاں تک ملکی سیاست اور معاشرے کا تعلق ہے تو گائے مختلف برادریوں کے درمیان اختلافات اور مذہبی تنازعوں کا سبب بنتی رہی ہے۔

گذشتہ ماہ شمالی ریاست اتر پردیش میں ایک 50 سالہ شخص کو ہجوم نے اس وقت ہلاک کر دیا جب یہ افواہ پھیلی کے مذکورہ شخص اور اس کے گھر والوں نے گھر میں گائے کا گوشت چھپا رکھا اور وہ بیف کھاتے ہیں۔

یہ معاملہ اتنا زیادہ زور پکڑ گیا کہ اس شخص کی ہلاکت کے دو ہفتے بعد وزیرِاعظم نریندر مودی کو بھی اپنی خاموشی توڑنا پڑی لیکن ساتھ ہی یہ خبر بھی آ گئی کہ ان کی اپنی جماعت کے ارکان اسمبلی نے کشمیر میں ایک آزاد رکن اسمبلی کی اس بات پر دھلائی کر دی کہ اس نے اپنے ہاں دعوت میں گائے کا گوشت کھلایا تھا۔

رواں مہینے میں بھی اتر پردیش میں گائے ذبح کرنے کی افواہ کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر میں بھی گائے کے گوشت پر پابندی کے حوالے سے مذہبی کشیدگی میں اضافے کے خدشات پائے جاتے ہیں۔

ادھر ریاست بہار میں انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی خود مخالف پارٹی کے ایک امیدوار کو تمسخر کا نشانہ بنا چکے ہیں کیونکہ مذکورہ امیدوار کا کہنا تھا کہ بہت سے سارے ہندو بھی گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔

وزیراعظم کے اس متنازع بیان کے علاوہ ریاست بہار سے یہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی اور ہندو قوم پرست جماعت آر ایس ایس کے حامیوں نے گائے کے گوشت کے خلاف ایک زہر آلود مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

Image caption ملک میں گائے اور بھینسوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے

اگرچہ حکومت کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2007 اور سنہ 2012 کے درمیانی عرصے میں ملک میں گائے اور بھینسوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے اور ملک کی اکثر ریاستوں میں گائے کے ذبیحے پر پابندی ہے، بھارت میں اس افواہ کو ہوا دی جا رہی ہے کہ اب انڈیا میں گائے کو خطرے کا سامنا ہے۔

ایک زیریلی مہم کے تحت ملک میں جگہ جگہ ایسے گروہ منظر عام پر آ گئے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی شخص کو گائے ذبح نہیں کرنے دیں گے۔ان خود ساختہ پہرے داروں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ملک میں اپنے مخبروں کا جال پھیلا دیا ہے اور انھیں اس بات سے تقویت ملتی ہے ملک کا اقتدار ہندو قوم پرست جماعت بی جے کے ہاتھ میں ہے۔

اس قسم کے گروہ اتنے مضبوط ہو گئے ہیں کہ ان میں سے ایک دہلی یونیورسٹی میں پکوانوں کے ایک ایسے میلے پر پابندی لگوانے میں کامیاب ہو گیا ہے جس میں گائے اور سؤر کا گوشت رکھا جانا تھا۔

بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔

راجستھان میں برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست میں ایک رکن اسمبلی کو ’وزیرِ گائے‘ بھی مقرر کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ ملک میں کئی مقامات پر یہ مہم جاری ہے کہ ٹائیگر کی جگہ اب گائے کو بھارت کا قومی جانور قرار دیا جائے۔

’معصومیت جو شہید ہو گئی‘

Image caption انڈیا کی سڑکوں پر گائیں مزے سے ٹہلتی رہتی ہیں

گائے کے گوشت پر بھارت میں آج جو اتنی کھلبلی مچی ہوئی ہے اس میں نریندر مودی کا بھی ہاتھ ہے۔

گذشتہ برس عام انتخابات سے پہلے اپنی مہم کے دوران نریندر مودی نے کانگریس حکومت پر یہ تنقید بار بار کی تھی کہ اس نے ملک میں ’گلابی انقلاب‘ کو فروغ دیا جس کے تحت بھارت میں گائیوں کو ذبح کر کے ان کا گوشت برآمد کیا جاتا رہا۔

سنہ 2012 میں ایک مضمون میں نریندر مودی نے لکھا تھا کہ ’ کیا ہم بھارتیوں کو کانگریس حکومت کے اس کام پر فخر کرنا چاہیے، ایک ایسا کام جس کی بنیاد ہماری ماتا گائے کے قتل پر رکھی گئی ہے۔‘

نریندر مودی کے انتخابی نعرے اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مودی کے دور میں بھارت دنیا میں بھینس کے گوشت کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن چکا ہے اور دنیا بھر میں بھینس کی گوشت کی 80 فیصد مانگ بھارت پورا کر رہا ہے۔

تاریخ دان مُکل کیسوان کے خیال میں آج کل بھارت میں گائے کی بچاؤ کے لیے جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں ان میں سے ایک توجیح نہایت خطرناک ہے۔

یہ دلیل کہتی ہے کہ ’میں ہندو ہوں اور گائے میری ماں ہے اور میں اپنی ماں کو قتل نہیں ہونے دوں گا۔‘

مُکل کیسوان کہتے ہیں کہ مندرجہ بالا بیان میں گائے کے حوالے سے کسی اخلاقی، جذباتی یا معاشی پہلو کا بہانہ نہیں بنایا جا رہا، بلکہ اس دلیل کی روح یہ ہے کہ اصل میں گائے ایک ہندو خاتون اور اس حوالے سے ہندوؤں کی ماں ہے۔‘

بھارت میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے جب گائے اور سیاست کو خلط ملط کیا جا رہا ہے۔

ہندوستان میں گائے بچاؤ کی پہلی باقاعدہ مہم سکھوں کے ایک فرقے نے سنہ 1870 میں شروع کی تھی۔ اس کے بعد سنہ 1882 میں ایک ہندو مذہبی رہنما دیانند سرسواتی نے پہلی ’کمیٹی برائے گائے بچاؤ‘ بنائی تھی۔

تاریخ دان ڈی این جھاہ کے مطابق ’اس مہم اور کمیٹی کی تشکیل نے ایک جانور کو مختلف لوگوں کی ہم آہنگی اور اتحاد کی علامت بنا دیا جس کے تحت مسلمانوں کے ہاتھوں گائے کے ذبیحے کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا۔ اسی تحریک کے نتیجے میں سنہ 1880 اور 1890 کے عشروں میں ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات بھی ہوئے۔

’مقدس گائے کی افسانوی کہانی‘

Image caption مہاتما گاندھی بھی ملک میں گائے کی تقدس کو رواج دینے کے ذمہ دار ہیں

گائے کے ذبیحے پر ہونے والے مذہبی فسادات میں کئی لوگ مارے گئے، مثلاً سنہ 1893 کے ہنگاموں میں ایک سو سے زیادہ افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے تھے۔

سنہ 1966 میں بھارتی پارلیمان کی عمارت کے باہر جب مظاہرین گائے کے ذبیحے پر پابندی کے حق میں مظاہرہ کر رہے تو اس میں بھی کم از کم آٹھ افراد مارے گئے تھے۔ اور پھر سنہ 1979 میں مہاتما گاندھی کے بڑے پیروکار سمجھے جانے والے اچاریا وونبھا بھاو گائے کے ذبیحے پر پابندی کی تحریک میں بھوک ہڑتال پر چلے گئے تھے۔

ڈاکٹر جھاہ کے مطابق ’ مقدس گائے‘ بھی ایک افسانوی بات ہے۔ اس موضوع پر ان کی مشہور تصنیف ’مِتھ آف دی ہولی کاؤ‘ میں ڈاکٹر جھاہ نے کئی مذہبی نسخوں اور تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ قدیم بھارت میں گائے کا گوشت کھایا جاتا تھا۔

ان کی اس تحقیق سے ہندو قوم پرستوں کے اس خیال کی تردید ہوتی ہے کہ ہندوستان میں گائے کا گوشت کھانے کا رواج مسلمان کی آمد کے بعد ہوا۔

ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ڈاکٹر جھاہ کی کتاب کی اشاعت کے بعد انھیں قتل کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی محقق وینڈی ڈونیگر درسی کہتی ہیں کہ ہندو ’سارا سال گائے کے ساتھ نرمی اور عزت سے پیش نہیں آتے، بلکہ گائے کو اکثر بھوکا بھی رکھا جاتا ہے اور اسے پیٹا بھی جاتا ہے۔‘

گائے اور سیاست کو ملانے میں نریندر مودی اکیلے نہیں۔ بھارت میں سب سے زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے والے رہنما مہاتما گاندھی بھی ملک میں گائے کی تقدس کو رواج دینے کے ذمہ دار ہیں۔

ایک مرتبہ انھوں نے کہا تھا کہ’ہندو مت کا مرکزی نکتہ گائے کا بچاؤ ہے۔‘ اس کے علاوہ مہاتما گاندھی نے’گائے کی معصومیت اور اس کی ذات کی مقدس قربانی‘ کی بھی بات کی تھی۔

لیکن مکافات عمل دیکھیے کہ آج ہندو انتہا پسندوں نے معصوم گائے کو اپنے مقاصد کے لیے ہائی جیک کر لیا ہے اور ان تمام عظیم مقاصد کا ٹھیکہ بھی اپنے سر لے لیا ہے جو کبھی گائے ماتا کی معصومیت اور قربانی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔

اسی بارے میں