بھارت: دال کی قیمتیں گوشت سے بھی زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں کئی سارے تہواروں کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اور اضافہ ہونے کا امکان ہے

بھارت میں عام آدمی کے کھانے کا لازمی حصہ تسلیم کی جانے والی دالوں کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔ خاص طور پر ارہر کی دال جس کی گذشتہ ایک برس میں قیمت تقریباً دو گنا ہوگئی ہے۔

اس وقت یہ دال 200 روپے فی کلو تک فورخت کی جارہی ہے جبکہ گذشتہ برس اس مہینے میں یہ صرف 90 روپے فی کلو فروخت ہورہی تھی۔

ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں کئی سارے تہواروں کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اور اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

اس وقت مرغی کا گوشت تقریباً 170 روپے فی کلو اور عام گوشت تقریباً 190 یا دو سو روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے۔

ارہر کی دال بھی کہا جاتا ہے، کی مانگ پیداوار کے مقابلے میں کافی کم ہے اور اس وقت کمی ملک بھر میں محسوس کی جا رہی ہے۔ حکومت نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔

ملک میں پیدا وار کی کمی کے سبب دال کو ہر برس بیرونی ممالک سے درآمد کرنا پڑتا ہے اور اس سال وقت پر دال درآمد نہ ہونے کی وجہ حالت تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔ وقت پر توجہ نہ دینے کے لیے حکومت پر نکتہ چینی بھی ہورہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ملک میں پیدا وار کی کمی کے سبب دال کو ہر برس بیرونی ممالک سے درآمد کرنا پڑتا ہے

کمپنیوں کے گروپ ایس او ایچ ایم کے ایک جائزے کے مطابق دیوالی کے وقت تک دالوں کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک اور اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس کے تھوک تاجروں کا کہنا ہے کہ اس وقت خود انھیں 140 روپے فی کلو کے حساب سے دال مل رہی ہے اور تیار ہونے کے بعد خوردہ بازار میں یہ صارفین کو 180 سے 200 روپے کی قیمت میں مل رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چند بڑے کسان ہی فصل کو سٹاک کر پاتے ہیں باقی اس کا سارا کنٹرول بڑے تاجروں کے پاس ہے جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں۔

دال چاول بیچنے والے موتي رام وادھواني کہتے ہیں: ’ٹاٹا، ریلائنس اور وال مارٹ جیسی بڑی کمپنیاں جب خریدار ہو جاتی ہیں تو قیمتیں خود بخود بڑھنے لگتی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں ’ اگر حکومت بڑے گھرانوں کو درمیان سے ہٹا دے تو دال پرانے ریٹ پر لوٹ آئے گی۔ جب تک یہ نہیں کریں گے تو بیرون ملک سے آنے والی دال سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا۔ جو مال آیا ہے، وہ پہلے ان بڑے لوگوں کے گوداموں میں پہنچ رہا ہے۔‘

مدھیہ پردیش کے کسان شیو کمار شرما نے بی بی سی کو بتایا ’قیمتیں بڑھنے کے لیے حکومت کی پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ دال کی پیداوار بڑھانے کے لیے حکومت کسانوں کی حوصلہ افزائی نہیں ک رتی ہے۔ تور کی فصل آٹھ ماہ میں تیار ہوتی ہے تو کسان اس کی طرف کیوں متوجہ ہوگا۔‘

دال کے تاجر شنکر سچدیو کہتے ہیں جب سے اس تجارت میں بڑے ذخیرہ اندوز اترے ہیں تبھی سے دال کا حساب کتاب گڑ بڑ ہوا ہے۔

اسی بارے میں