گائے کی سمگلنگ کے الزام میں ایک اور شخص کا قتل

Image caption ہندو مذہب میں گائے ایک مقدس جانور ہے اور مختلف علاقوں میں اس کی پوجا کی جاتی ہے

بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں بعض مقامی لوگوں نے ٹرک میں گائے لے جانے والے بعض افراد پر حملہ کر دیا جس میں ایک شخص ہلاک ہوگيا اور چار دیگر شدید زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ٹرک میں گائے لے جانے والے افراد کو اس قد مارا پیٹا گيا کہ اس میں ایک نوجوان کی موت ہوگئی ہے۔

یہ واقعہ ہماچل پردیش میں سرمور ضلع کے ہیڈکوارٹر نہان سے تقریبا 37 کلومیٹر کے فاصلے پر سراہا قصبے میں پیش آیا ہے۔

سرمور کی پولیس سپرنٹینڈنٹ سومیا سنبھاوشن نے بی بی سی سے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پولیس نے چاروں زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرایا ہے۔ ہلاک ہونے والے 20 سالہ نعمان کا تعلق ریاست اترپردیش کے ضلع سہارن پور سے ہے۔

مقامی صحافی اشونی شرما کا کہنا ہے کہ ان افراد پر پنجاب سے اتر پردیش گائے لے جانے کا الزام ہے۔

اس واقعے سے متعلق پولیس نے دو مقدمات درج کیے ہیں۔ ایک ایف آئی آر ٹرک میں گائے لے کر جا رہے لوگوں کے خلاف درج کی گئی ہے۔ اس ایف آئی آر میں جانوروں کے خلاف تشدد کرنے اور سمگلنگ کرنے الزامات لگائے کئے ہیں۔

جبکہ ہلاکت کے معاملے میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

گذشتہ ماہ دلی سی متصل دادری میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر گاؤں والوں نے ایک مسلمان خاندان پر حملہ کر دیا تھا۔ اس واقعے میں پچاس برس کے محمد اخلاق کی موت ہوگئی تھی جبکہ ان کے نوجوان بیٹے کا اب بھی ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔

بھارت میں حالیہ دنوں میں اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے اسی لیے کئی حلقوں کی جانب سے ایس پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں