دہلی: اوبر ٹیکسی ڈرائیور جنسی زیادتی کا قصوروار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے مجرم شیو کمار یادو کو خاتون کو اغوا کرنے اور ریپ کرتے وقت ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا قصوروار ٹھہرایا ہے

دہلی کی ایک عدالت نے گذشتہ برس دسمبر میں اوبر کی ٹیکسی میں ایک خاتون کے ساتھ ہوئی جنسی زیادتی کے معاملے میں ٹیکسی ڈرائیور کو مجرم قرار دیا ہے۔

اس بارے میں عدالت سزا کا تعین بعد میں کرے گی۔ جمعہ کو سزا سے متعلق سرکاری وکیل اور دفاعی وکیل کے موقف کو سننے کے بعد عدالت اپنا فیصلہ سنائے گي۔

ٹیکسی میں خاتون کا ’ریپ‘، ڈرائیور کی تلاشی جاری

سرکاری وکیل نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ عدالت نے مجرم شیو کمار یادو کو خاتون کو اغوا کرنے اور ریپ کرتے وقت ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔

دفاعی وکیل دھرمندر کمار مشرا کا کہنا ہے کہ عدالت نے ان کی جانب سے پیش کی گئی تمام دلیلوں کو مسترد کردیا۔ واضح رہے کہ 29 سالہ شیو کمار نے عائد کیے گئے تمام الزامات سے انکار کیا تھا۔

نئے قوانین کے مطابق جنسی زیادتی کے مجرموں کو عمر قید تک کہ سزا ہوسکتی ہے۔

پانچ دسمبر کو 26 سالہ متاثرہ خاتون نے گڑگاؤں سے دہلی میں اندرلوك کے لیے ٹیکسی بک کی تھی۔ جب وہ راستے میں تھیں تو ڈرائیور نے کار ایک سنسان جگہ پر روک کر انھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

اس واقعے کے بعد زبردست ہنگامہ ہوا تھا جس کے بعد حکومت نے اوبر کی سروز پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اسی بارے میں