پاک افغان تعلقات اور خطے میں’نئی گریٹ گیم‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گذشتہ برس دسمبر میں پشاور میں سکول پر حملے کے بعد پاکستان نے شدت پسندوں کے خلاف کئی کارروائیاں کی ہیں

گذشتہ برس جب پاکستانی طالبان نے پشاور میں سکول کے 132 بچوں کا قتل عام کیا، تب سے پاکستانی فوج ملک میں شدت پسندوں کے خلاف بے مثال عزم کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے۔

لیکن یہ مہم اب بھی کم پیمانے پر جاری ہے۔ اِس مہم میں پاکستانی طالبان کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے لیکن دیگر پاکستانی عسکریت پسند تنظیموں کو چھیڑا تک نہیں گیا۔

ہم افغانستان کے چوکیدار نہیں: نثار

افغان توپوں کا رخ پاکستان کی طرف؟

ظاہری طور پر پاکستانی حکام اِس بات پر بضد ہیں کہ اب ’اچھے‘ طالبان (پاکستانی ریاست کی پراکسی فورسز) اور ’برے‘ طالبان (فرقہ وارانہ یا ریاست کے خلاف حملوں میں ملوث) کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

لیکن نجی محفلوں میں وہ کہتے ہیں کہ یہ فوج کی ترجیحات ہیں کہ کس تنظیم کے خلاف پہلے کارروائی کرنی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ فوری طور ضرورت اِس امر کی ہے کہ اُن عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کی جائے جو پاکستان کے اندر ہزاروں ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔

افغان جنگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان میں طالبان کے حملوں میں شدت آئی ہے

اِس کا مطلب ہے کہ حقانی نیٹ ورک جیسی عسکری تنظیمیں، جن کی زیادہ تر توجہ اور کوششیں افغانستان پر مرکوز ہیں، بغیر کسی روک ٹوک کے لڑسکتی ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی اِس تنظیم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گرمیوں میں کابل پر کیے گیے متعدد حملوں میں ملوث ہے۔

یہ ایک تباہ کن مہم ہے۔ افغانستان میں موجود اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن نے 2008 سے مصدقہ ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا ہے۔ اُن کی دستاویزات کے مطابق 2015 کے ابتدائی چھ مہینوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کی سطح سب سے زیادہ ہے۔

اسی طرح افغان طالبان نے بھی اپنی عسکری کارروائیاں بڑھا دی ہیں جس کی حالیہ جھلک افغانستان کے شمالی شہر قندوز میں نظر آئی ہے۔

کابل کئی سالوں سے شاکی ہے کہ کئی افغان طالبان رہنما پاکستان کے شہر کوئٹہ اور اُس کے گردو نواح میں رہائش پذیر ہیں۔

جب اِس بارے میں سوال کیا جائے تو پاکستان کے فوجی حکام کہتے ہیں کہ پاکستان میں 30 لاکھ افغانی شہری رہتے ہیں۔ اُن کی موجودگی میں یہ معلوم کرنا انتہائی مشکل ہے کہ کون کہاں رہتا ہے۔

خیال ہے کہ پاکستان افغان طالبان کو کنٹرول کرتا ہے اور اِس سے پاکستانی حکام کو سفارتی طاقت ملتی ہے۔ اگر مغرب افغانستان میں امن قائم کرنا چاہتا ہے تو اِس کی کامیابی کے لیے اِن کو پاکستان سے تعاون کو یقینی بنانا ہو گا۔

درحقیقت تاریخ بتاتی ہے کہ افغان طالبان جب پاکستان کی امداد یا حمایت قبول کرتے تھے تب بھی وہ اِسلام آباد کے احکامات کو نظر انداز کرنے اور اپنی پالیسیاں تیار کرنے کے قابل تھے۔

تعاون

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لیکن افغان صدر اشرف غنی کی امیدوں کو پورا کرنے کے لیے اسلام آباد اور کابل کو ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات کو واپس لینا ہو گا

جب افغانستان کے نئے صدر 2014 میں اقتدار میں آئے تو اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان سے تعلقات بہتر بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔

اگر اسلام آباد افغان طالبان سے اپنے رابطے ختم کرتا ہے تو کابل پاکستان مخالف گروہوں کو روکنے اور افغانستان میں اُن کی محفوظ پناہ گاہوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔

اُنھوں نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک میں استحکام اُسی وقت آ سکتا ہے جب ساتھ مل کر کام کیا جائے۔

لیکن افغان صدر اشرف غنی کی امیدوں کو پورا کرنے کے لیے اسلام آباد اور کابل کو ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات کو واپس لینا ہو گا اور لگتا ہے کہ یہ بداعتمادی کی فضا جاری رہے گی۔

جغرافیائی خدشات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی تحریک جاری ہے

ایک سینئیر پاکستانی فوجی افسر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مسلسل دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت یہاں اپنا اثر رسوخ بڑھا رہا ہے۔

اسلام آباد کو خدشہ ہے کہ دیگر چیزوں کی طرح دہلی افغانستان میں اپنی موجودگی کو استعمال کرتے ہوئے بلوچ علحیدگی پسندوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے۔

بلوچ علیحدگی پسند ایک دہائی سے پاکستان سے الگ ہونے کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

’اقتصادی راہداری کے مخالفین کی مہم سے آگاہ ہیں‘

یہ معاملہ خاص طور پر حساس ہے کہ کیونکہ پاکستان کا پاک چین اقصادری راہداری کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ یہ تجارتی راہداری افغانستان کی سرحد کے قریب بلوچستان سے ہوتی ہوئی گوادر کی نئی بندرگاہ تک جائے گی۔

پاکستان کو اُمید ہے کہ اِس منصوبہ سے اربوں امریکی ڈالر کی آمدنی ہو گی۔

یہ ایک انتہائی پیچیدہ جغرافیائی صورت حال ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کو امید ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے اربوں امریکی ڈالر کی آمدنی ہو گی۔

بھارت کے انٹیلی جنس افسران بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ مل کر چینی تجارت کو روکنا چاہتے ہیں اور پاکستانی حکام اِن کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی شدت پسندوں کی مدد کر رہے ہیں۔

ماضی کی طرح اس معاملے میں بھی افغانستان میں استحکام تبھی آ سکا ہے جب وہ تنہا رہے۔ لیکن خطے کی قوتوں کی نظر میں افغانستان وہ جگہ ہے کہ جو اُن کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔

اِس کے نتیجے میں افغانستان کے بہت سے پڑوسی مقامی افراد، قبائل اور مذہبی شدت پسندوں کی مدد کر رہے ہیں تاکہ یہاں کسی اور کو مکمل کنٹرول حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

یہ ایک عمل ہے کہ افغان شہری سب کو پہچان لیں کیونکہ یہ لڑائی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں