شیروں کا تحفظ اور مدد کرنے والی خواتین

Image caption گجرات کے گر جنگل میں 48 خواتین گارڈز میں ہیں جو جنگوں میں جانورں کی دیکھ بھال پر مامور ہیں

بھارتی ریاست گجرات میں جانوروں کی معروف محفوظ پناہ گاہ ’گر سینکچویری‘ میں خواتین گارڈز بھی تعینات ہیں جو شیروں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں۔

بی بی سی کی گیتا پانڈے نے انھی خواتین سے ملنے کے لیے گر سینکچویری کا دورہ کیا۔

رسیلا وادھیر کا تعلق خواتین گارڈز کے اس پہلے بیچ سے ہے جسے محمکہ جنگلات نے پہلی بار 2007 میں گر کے لیے مقرر کیا تھا۔

نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تب گر سینکچویری میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا اعلان کیا تھا تبھی خواتین پر مشتمل گارڈز کا یہ خصوصی دستہ قائم کیا گیا تھا۔

جنگل کے دفتر میں بیٹھی رسیلا کہتی ہیں: ’تب مجھے جنگل کی زندگی، جانوروں اور گر کے متعلق کچھ بھی پتہ نہیں تھا۔ میرے والد کا انتقال جلدی ہو گیا تھا اور میری ماں مجھے اور میرے بھائی کو سکول بھیجنے کے لیے دوسروں کے کھیتوں میں کام کیا کرتی تھی۔ میری برادری کے لوگ قدامت پسند خیال کے ہیں، وہ سوال کرتے کہ ’’لڑکیوں کو کیوں پڑھاتے ہو، اس کی شادی ہو جائےگی اور پھر اسے اپنے شوہر کو خیال رکھنا ہوگا۔‘‘ لیکن چونکہ میں پڑھنا چاہتی تھی اس لیے میری ماں نے مجھ سے اتفاق کیا اور تعلیم دلوائی۔‘

Image caption جب وادھرے فیلڈ میں گارڈ کے طور پر آئیں اور جنگلی جانوروں کو تحفظ دینے اور انھیں بچانے کا کام شروع کیا تو ان کے دیگر مرد ساتھی اپنی ٹیم میں ایک خاتون کو شامل کرنے پر خوش نہیں تھے

2007 میں رسیلا وادھرے کو گر سینکچویری میں تقرری کا پتہ چلا تو وہ اپنے بھائی کو نوکری دلانے لے گئیں۔ وہ کہتی ہیں ’لیکن وہ جب جسمانی ٹیسٹ میں ناکام ہوگیا تو میں نے کوشش کی اور میں کامیاب ہو گئی۔‘

شروع میں تو انھیں دفتری کام پر لگایا گیا تھا ’لیکن وہ بڑا بورنگ کام تھا تو ہم نے سوچا کچھ اور کوشش کرتے ہیں۔‘

پھر جب وادھرے فیلڈ میں گارڈ کے طور پر آئیں تو انھوں نے جنگلی جانوروں کو تحفظ دینے اور انھیں بچانے کا کام شروع کیا تو ان کے دیگر مرد ساتھی اپنی ٹیم میں ایک خاتون کو شامل کرنے پر بہت خوش نہیں تھے۔

انھوں نے سوال کیا: ’ہمیں جانورں کی دیکھ بھال کرنی ہے یا اس خاتون کی؟ میں نے کہا مجھے کوشش کرنے دو، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘

وادھرے ایک طویل سفر طے کر کے اب اس مقام تک پہنچی ہیں کہ وہ جانوروں کو امداد پہنچانے اور ریسکیو کرنے والی ٹیم کی ایک اہم رکن بن چکی ہیں۔ اب تک وہ 900 امدادی مشنوں میں شریک ہو چکی ہیں ، جس میں سے 200 شیروں کو مدد پہنچانے کا کام کیا اور 425 چیتوں کو مصیبت سے نکالا ہے۔

Image caption وادھرے ایک طویل سفر طے کر کے اب اس مقام تک پہنچی ہیں کہ وہ جانوروں کو امداد پہنچانے اور ریسکیو کرنے والی ٹیم کی ایک اہم رکن بن چکی ہیں

حال ہی میں ڈسکوری چینل نے ’لائن کوین آف انڈیا‘ نام کی جو ٹی وی سیریز بنائی ہے اس میں رسیلا آدھرے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’میرا سب سے یادگار امدادی مشن 18 مارچ 2012 کا تھا جب ایک تیندوے کا پیچھا کرتے ہوئے ایک کنویں میں گر گیا۔ کنواں نیا نیا کھودا گیا تھا جو سوکھا تھا اور تقریباً 60 فٹ گہرا تھا۔ ہم نے اسے دوا کے ذریعے رام کرنے کی کوشش کی لیکن چونکہ وہ بہت دور تھا اس لیے نشانہ خطا جاتا رہا۔ تو میں نے کہا میں پنجرے میں بیٹھ کر اندر جانا چاہتی ہوں اور جب چیتا میری رینج میں ہو گا تب شوٹ کروں گی۔‘

’مجھے لوہے کے ایک پنجرے میں بٹھا کر دوا سے لیس بندوق کے ساتھ کنویں میں نیچے اتارا گيا۔ تیندوا بہت غصے میں تھا اور غرّا رہا تھا۔ مجھے کوئی تجربہ بھی نہیں تھا اور ڈر بھی لگ رہا تھا۔ لیکن میں نے فائر کیا اور انجیکشن نشانے پر لگا۔ جب جانور بے ہوش ہو گیا تو میں نے رسی سے اسے پنجرے میں باندھ دیا اور پھر باہر نکالا گیا۔‘

وادھرے کی شادی گذشہ برس ہی ہوئی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ شادی سے پہلے ہی انھوں نے اپنے شوہر کو بتا دیا تھا کہ یہ ان کا کام ہے اور اگر ضرورت پڑی تو تین بجے رات کو بھی وہ ان کے ساتھ کام پر نکل جائیں گی۔ ان کے شوہر نے ان کی بات کو تسلیم کیا۔

درشنا کاگاڑا

Image caption درشنا کاگاڑا کا تعلق راجپوت خاندان سے ہے جہاں خواتین کو صرف گھر میں رہنے کی اجازت ہوتی ہے

کاگاڑا کا تعلق اس خاندان سے ہے جہاں آٹھ بہنیں ہیں اور کوئی بھائی نہیں۔ ’میرا تعلق راجپوت ذات سے ہے جو بہت ہی دقیانوسی سمجھا جاتا ہے۔ لڑکیوں اور خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کمتر سمجھا جاتا ہے۔ ہمارا کام بس شادی کر کے گھر سنبھالنا ہے۔‘

لیکن وہ کہتی ہیں کہ تمام طرح کی مشکلات کے باوجود جب بارہویں کلاس تک پڑھنے کے بعد انھوں نے ملازمت حاصل کر لی تب جا کر اپنے والد کو اس سے آگاہ کیا۔ ’ آج میرے والد کو مجھ پر بہت فخر ہے۔‘

کا گاڑا نے مجھے گر جنگل کی سیر کرائی۔ ہم ان سے بات کر ہی رہے تھے کہ پاس میں کھڑے شیروں کو دیکھا ۔ تین شیرنیاں اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ اور وہاں کھڑے بعض محافظوں کے ہاتھوں میں صرف لاٹھیاں تھیں۔

Image caption کاگاڑا ان خواتین گارڈز میں سے ایک ہیں جو جونیئر سٹاف کو تربیت بھی فراہم کرتی ہیں اور اپنے کام کو پسند بھی کرتی ہیں

وہ کہنے لگیں ’شیر شاہی جانور ہیں۔ انھیں ہم سے اور آپ سے کچھ لینا دینا نہیں۔ وہ انسانوں پر تبھی حملہ کرتے ہیں جب انھیں لگے کہ وہ ان کے علاقے میں داخل ہو رہے ہیں، یا پھر انھیں لگے کہ ان کے بچوں کو آپ سے خطرہ ہے یا جب وہ جنسی عمل سے گزر رہے ہوں تو کوئی قریب جائے۔‘

کاگاڑا ان 48 خواتین گارڈز میں سے ایک ہیں جو گر کے جنگوں میں جانورں کی دیکھ بھال پر مامور ہیں۔ وہ جونیئر سٹاف کو تربیت بھی فراہم کرتی ہیں اور اپنے کام کو پسند بھی کرتی ہیں۔

گیتا رتادیہ

Image caption رتادیہ نے چار برس کی عمر میں ہی شیر کو دیکھ لیا تھا، وہ بتاتی ہیں کہ ان کے والد اکثر جنگل کی سیر کرایا کرتے تھے

گیتا رتادیہ کو جہاں تک یاد ہے وہ ہمیشہ ہی جنگل کی محافظ ہی بننا چاہتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں ’میں تو گر میں ہی پیدا ہوئی تھی۔ میرے والد اور دادا دونوں ہی فارسٹ گارڈ تھے۔‘

وادھرے اور کاگاڑا کے بر عکس، جنھوں نے گر آنے سے پہلے کبھی شیر نہیں دیکھے تھے، رتادیہ نے چار برس کی عمر میں ہی شیر کو دیکھ لیا تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے والد اکثر جنگل کی سیر کرایا کرتے تھے۔

وہ کہتی ہیں: ’میں ہمیشہ اپنے والد ہی کی طرح خاکی وردی پہن کر واکی ٹاکی کے ساتھ جنگل کے چکر لگانے کے بارے میں سوچا کرتی تھی۔‘

وہ جنگل میں جانوروں کو ریسکیو کرنے کے ساتھ ان کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں۔ بہت سے زخمی، بیمار اور ادھر ادھر پڑے جانوروں کی وہ دیکھ بھال کرتی ہیں۔

اسی بارے میں