دلت لڑکے کی بھارتی پولیس کی حراست میں موت

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پولیس نے پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لاش کو خاندان کے حوالے کر دیا ہے۔ لیکن اہل خانہ نے لاش کو رکھ کر پولیس کے خلاف مظاہرہ کیا ہے

بھارتی ریاست ہریانہ کے سونی پت میں ایک دلت لڑکے کی مشتبہ ہلاکت کے معاملے میں دو پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس سپرنٹنڈینٹ ابھیشیک گرگ کا کہنا ہے کہ اس طرح کا واقعہ کوہانا میں پیش آیا ہے۔

مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق گووندا نام کے ایک نوجوان کے اہل خانہ نے پولیس پر ’حراست میں قتل‘ کے الزام لگائے ہیں۔

چند روز پہلے اسی ریاست میں ایک دلت ( نچلی ذات کے لوگ) کے مکان کو نذر آتش کر دیا گیا تھا جس میں دو کم سن بچے زندہ جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔ تب سے مقامی انتظامیہ پر سخت نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔

متاثرہ لڑکے کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے چوری کے ایک معاملے میں 15 برس کے اس لڑ کے کو حراست میں لیا تھا اور اس کی رہائی کے لیے رشوت کا مطالبہ کیا۔ رشوت نہ دیے جانے پر اس کے ساتھ تھانے میں زیادتی کی گئی۔

ان کے مطابق اسے ٹارچر کیا گیا اور اس قدر مارا پیٹا گیا کہ اس کی موت ہوگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ manoj dhaka
Image caption ہریانہ کے بلبھ گڑھ میں ایک دلت خاندان کے گھر میں آگ لگا دی گئی تھی، اس واقعے میں دو بچوں کی موت ہوگئی تھی

دوسری جانب ہریانہ کی پولیس نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

گوہانا کے تھانہ انچارج رشی كات نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا : ’گووندا پر کبوتر چوری کے الزام لگائے گئے تھے لیکن پولیس کو اس سلسلے میں کوئی شکایت نہیں دی گئی تھی۔ الزام لگانے والوں اور گووندا کے اہل خانہ نے تھانے سے باہر ہی فیصلہ کر لیا تھا۔‘

انھوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ پولی نے گووندا کو حراست میں لیا تھا۔ رش كانت نے کہا کہ گووندا کی لاش اس کے گھر سے ہی برآمد کی گئی ہے۔

پولیس نے پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لاش کو خاندان کے حوالے کر دیا ہے۔ لیکن اہل خانہ نے لاش کو رکھ کر پولیس کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔

رش كانت نے بتایا: ’اہل خانہ کی تحریر پر دو اے ایس آئی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔‘

حال میں ہریانہ کے ہی بلبھ گڑھ میں ایک دلت خاندان کے گھر میں آگ لگا دی گئی تھی۔ اس واقعہ میں دو بچوں کی موت ہوگئی تھی جس کے بعد سے ریاستی انتظامیہ پر ہر جانب سے نکتہ چینی ہورہی ہے۔

اسی بارے میں