’میں بھارتی ہوں اور پاکستان سے نفرت نہیں کرتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Vishal Dadlani

پاکستانیوں سے محبت کرنے والے بھارتی اب بھی بہت ہیں اور اگر آپ کو یہ بات افسانوی لگتی ہے تو ذرا ProfileforPeace# کے ہیش ٹیگ کو ٹوئٹر پر دیکھ لیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے حالیہ دورۂ بھارت کے بعد سے دونوں جانب سے نفرت اور غصے سے بھرے ٹرینڈز گذشتہ کئی دنوں سے ٹوئٹر اور فیس بُک پر نظر آتے رہے ہیں۔

شاید اسی کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارتی شہر ممبئی سے رام سبرامنیم نے مہم شروع کی جنھوں نے بی بی سی ہندی کے دلنواز پاشا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’حال ہی میں میں نے شیو سینا کے پاکستانی فنکاروں کے خلاف کارروائیوں کی خبریں پڑھی۔ انھوں نے فنکاروں پر سیاہی پھینکی، مگر وہ ممبئی کے جذبات کی نمائندگی نہیں کرتے، کم سے کم میری جذبات کی تو بالکل بھی نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Aaghaz E Dosti

ان کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگوں نے کاغذ کے پرچی پر اپنا نام اپنے شہر کا نام اور یہ پیغام لکھ کر کہ ’ہم بھارتی ہیں اور پاکستان سے نفرت نہیں کرتے‘ اپنی تصاویر بنائیں اور انھیں اپنی پروفائل پر لگانا شروع کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Dalbir Anup Singh
Image caption اسی تصویر کو لیجیے جو چندی گڑھ سے پوسٹ کی گئی

’پروفائل فار پیس‘ مہم کے تحت کئی لوگ اپنی پروفائل فوٹوز کو تبدیل کر رہے ہیں اور اپنے پیغام کے ساتھ یہ بھی لکھ رہے ہیں کہ ہمارے جیسے کئی اور بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Arshi Yasin
Image caption یہ تصویر کشن گنج سے ہے

انفرادی طور پر ہی نہیں بلکہ لوگوں نے مختلف گروپوں کی شکل میں بھی تصاویر پوسٹ کی ہیں جن پر یہی تحریر لکھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Navneet Jain

کچھ لوگوں نے اپنے دوستوں کے گروپوں کی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں.

تصویر کے کاپی رائٹ Navneet Jain

اس کے جواب میں پاکستان سے بھی لوگ تصاویر پوسٹ کر رہے ہیں جن کی پرچيوں پر لکھا ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور بھارت سے محبت کرتے ہیں.

تصویر کے کاپی رائٹ Jibran Yousufzai
Image caption پشاور سے تعلق رکھنے والے اس پاکستانی نے محبت کا جواب محبت سے دیا

پشاور کے جبران یوسفزئی نے جب یہ تصویر اپنی پروفائل پر لگائی تو اس تصویر کے نیچے آنے والے تبصروں میں ان کے ساتھ دلچسپ بحث بھی جاری ہو گئی۔ ایک صاحب نے لکھا: ’نہیں، بھارتی کبھی بھی ہمیں پسند نہیں کریں گے چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔ وہ سب ایک جیسے ہیں۔‘

جبران نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگر ایک فیصد بھی ہم سے محبت کرنے والے ہیں تو میں ان سے نفرت نہیں کروں گا۔ نفرت کو ختم ہونا چاہیے۔ ہم ایک نہیں ہو سکتے مگر متحد ہو کر نفرت کا جواب دے سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ram Subramanyam

رام کو امید نہیں تھی کہ ان کی اس مہم کو اتنی زبردست حمایت مل جائے گی۔ وہ کہتے ہیں: ’میں نے ایسا کیا اور زبردست حمایت ملی۔ میں اس سے پہلے بھی وائرل مہمات کا حصہ ہوں لیکن اتنی زبردست حمایت پہلے کبھی نہیں ملی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Slogan Murugan

اپنی تصویر کو تبدیل کرنے والی عرشی یاسین لکھتی ہیں: ’پیارے شیو سینا، نفرت پھیلانا بند کرو۔ میں امن چاہتی ہوں اور مجھ جیسے بہت ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Siddhartha Gadiraju

موسیقار اور عام آدمی پارٹی کے حامی بڑا ددلاني نے بھی اس مہم کی حمایت میں اپنی تصویر تبدیل کر دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Snehal Pinto
Image caption بینگلور سے یہ پروفائل کی تصویر
تصویر کے کاپی رائٹ Nina Bhuva
تصویر کے کاپی رائٹ Hitesh Rupani
تصویر کے کاپی رائٹ First of All Pakistan

اسی بارے میں