زلزلہ: افغانستان میں 115 ہلاکتیں، متاثرہ علاقوں تک رسائی میں مشکلات

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

افغانستان کی حکومت کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 115 ہو گئی ہے جبکہ 534 زخمی ہیں۔

7.5 شدت کے اس زلزلے کے بعد افغان حکام نے ملک کے دور افتادہ علاقے میں امدادی کاموں کا آغاز کر دیا ہے۔

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے متنبہ کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے ہونے کا خدشہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ بدخشان کے علاقے فیض آباد میں آنے والے زلزلے کی جانب امدادی ٹیمیں بھیج دی گئی ہیں اور ابھی تک زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا صحیح اندازہ نہیں ہو سکا ہے۔

صوبہ بدخشان کا کچھ علاقہ طالبان کے زیر کنٹرول ہے۔ طالبان نے امدادی تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ لوگوں کی مدد کریں۔

Image caption افغان طالبان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان جنگجوؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ متاثرین کی مدد کریں

افغان طالبان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان جنگجوؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ متاثرین کی مدد کریں۔

افغان صدر اشرف غنی نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں کے آس پاس کے علاقوں کے لوگوں سے کہا کہ وہ متاثرین کی مدد کریں۔

بدخشان کے گورنر شاہ ولی اللہ ادیب کا کہنا ہے کہ سروے کے لیے ٹیمیں متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کر دی گئی ہیں لیکن لینڈ سلائیڈ کے باعث راستے بند ہیں اور علاقوں تک رسائی کے لیے ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔

’راشن اور دیگر امدادی اشیا متاثرہ لوگوں کے لیے تیار ہیں لیکن راستے بند ہونے کے باعث وہاں پہنچانا مشکل ہے۔‘

اسی بارے میں