’بھارت میں مزید ایک ارب افراد کو آن لائن لانا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دہلی میں کالج کے طلبا سے بات کرتے ہوئے زکربرگ نے کہا کہ اقتصادی ترقی کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی بہت اہم ہے

فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ ’مزید ایک ارب لوگوں کو انٹرنیٹ‘فراہم کرنے اور غربت ختم کرنے کے لیے بھارت میں انٹرنیٹ تک رسائی بڑھانی ہوگی۔

بھارت کے دارالحکومت دلی میں طلبا سے بات کرتے ہوئے زکربرگ کا کہنا تھا کہ اقتصادی ترقی کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی بہت اہم ہے۔

اطلاعات کے مطابق انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں مارک زکربرگ کا خطاب سننے کے لیے نو سو طلبا موجود تھے۔

نریندر مودی کا فیس بک کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ

مودی کا فیس بک دورہ، عوام کے سوالات

گذشتہ ماہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں فیس بک کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا تھا۔

امریکہ کے بعد دنیا میں فیس بک کا سب سے زیادہ استعمال بھارت میں ہوتا ہے جہاں 13 کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔

زکربرگ نے طلبا سے کہا کہ ’اگر آپ دنیا کے ہر انسان کو ایک دوسرے سے جوڑنا چاہتے ہیں تو یہ کام آپ بھارت میں لوگوں کو آپس میں انٹرنیٹ کے ذریعے جوڑے بغیر نہیں کر سکتے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہماری دوسری سب سے بڑی کمیونٹی بھارت میں ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ مزید ایک ارب لوگ آن لائن آئیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption مارک زکربرگ نے تاج محل کا دورہ بھی کیا

مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ تک رسائی نے نئی ملازمتوں کی تخلیق میں مدد کی ہے اور لوگوں کو غربت سے باہر نکالا ہے۔

گذشتہ ماہ فیس بک کے مرکزی دفتر میں دورہ کرتے ہوئے نریندر مودی نے سوشل میڈیا کی سیاسی طاقت کی تعریف کی تھی۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کے سارے دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت میں تقریباً ایک ارب لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ موبائل فون کی کچھ ایپس کو انٹرنیٹ تک مفت رسائی فراہم کرنے والا اس کا انٹرنیٹ ڈاٹ او آر جی کا منصوبہ ترقی پذیر دنیا کو انٹرنیٹ تک رسائی دلوا سکتا ہے۔

تاہم بھارت سے کچھ لوگ اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس منصوبے کے تحت مقامی سروسز کی بجائے فیس بک کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔

فیس بک کے چیف ایگزیکٹو نے بدھ کو کہا کہ ’ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم ان لوگوں کا خیال رکھیں جنھیں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہمارے اصولوں کا غلط استعمال کر کے ان لوگوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے جن کی کوئی آواز نہیں سنتا ہے۔‘

اسی بارے میں