چین کی امریکہ کو’اشتعال انگیز‘ اقدام پر تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ afp getty
Image caption ’امریکی بحری جہاز کو تنبیہ کی گئی ہے اور یہ عمل چین کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے‘

چینی بحریہ کے کمانڈر نے متنازع جزیرے کے قریب سے امریکی جنگی بحری گزرنے کے بعد امریکی بحریہ کے سربراہ کو خبردار کرتے ہوئے اسے اقدام کو خطرناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے۔

بحریہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ایڈمرل وو شینگلی نے ایک ویڈیو کانفرنس میں کہا کہ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ اس نوعیت کے چھوٹے واقعات جنگ کا سبب بن سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ کمانڈروں کی بات چیت فائدہ مند رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

امریکی جہاز کا متنازع جزیرے کے قریب آنا غیر قانونی ہے: چین

چین کی ہمسایہ ممالک کو بحری مشقوں کی پیشکش

اس سے پہلے جمعرات کو ثالثی کے ایک بین الاقوامی پینل نے فیصلہ دیا کہ وہ فلپائن کے چین کے ساتھ سمندری حدود کے تنازعے کا مقدمہ سننے کا اہل ہے۔ فلپائن اور چین کی متنازع حدود میں بحیرۂ جنوبی چین میں واقع جزائر کا ایک حصہ بھی شامل ہے۔

دا ہیگ میں قائم ثالثی کی عالمی عدالت نے چین کے اس موقف کو مسترد کر دیا تھا کہ یہ تنازع اس کی خودمختاری سے متعلق ہے اور اس مقدمے کو سننا عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔

چین کے نائب وزیر خارجہ لیو ژینمن نے کہا ہے کہ چین ثالثی کی عالمی عدالت میں کسی مقدمے میں نہ تو شامل ہو گا اور نہ ہی اس کے فیصلے کو تسلیم کرے گا۔

اس سے پہلے منگل کو چینی حکام نے امریکی بحری جہاز کے متنازع جزیرے کے قریب سے گزر کو ’غیر قانونی‘ کہہ کر اس کی مذمت کی تھی۔

چین کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ’امریکی بحری جہاز کو تنبیہ کی گئی ہے اور یہ عمل چین کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین کی جانب سے جزیروں کی تعداد بڑھانے پر امریکہ سمیت دیگر ممالک پریشان ہیں

چینی دعوے کے مطابق گائیڈڈ میزائلوں سے لیس امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس لیسن اس علاقے میں داخل ہوا۔

اس جزیرے پر چین اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور امریکی بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تنبیہی بیانات میں اضافہ ہوا ہے۔

چین کی جانب سے جزیروں کی تعداد بڑھانے پر امریکہ سمیت دیگر ممالک پریشان ہیں۔

واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین متنازع ملکیت والے علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے عسکری طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے استحکام کے لیے اُس کے اقدامات جائز ہیں۔

اسی بارے میں