بھارت میں گائے کے گوشت کے بارے میں فلم پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ دستاویزی فلم ٹاٹا فلم انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے پانچ طالبعلموں نے بنائی ہے

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں منعقد ہونے والی ایک فلم فیسٹول کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ’تکنیکی‘ وجوہات کی وجہ سے گائے کے گوشت کو کھانے کے بارے بنائی گئی ایک دستاویزی فلم کو فلمی میلے میں نہیں دکھایا جائے گا۔

بھارت کی وزارت اطلاعات و نشریات کو منظوری کے لیے بھیجے جانے والی 35 فلموں میں سے یہ اکلوتی فلم تھی جسے منظوری نہیں ملی ہے۔

بیف والے کھانے فراہم کرنے پر کیرالہ ہاؤس کی شکایت

کشمیر میں گائے کے گوشت پر نئی جنگ

فیسٹول کے ڈائریکٹر منوج میتھیوز نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس فیصلے سے ’پریشان اور مایوس‘ ہوئے ہیں۔

دوسری جانب وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ انھیں فلم کی ’مناسب معلومات‘ نہیں دی گئی تھیں۔

منوج میتھیوز کا کہنا تھا کہ ’اس پليٹ فارم سے اس فلم سے کئی زیادہ متنازع دستاویزی فلمیں دیکھائی جا چکی ہیں لیکن کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا ہے۔‘

یہ دستاویزی فلم ٹاٹا فلم انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے پانچ طالبعلموں نے بنائی ہے۔

ان میں سے ایک طالب علم اتول آنند نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس دستاویزی فلم کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ گوشت کی صنعت سے وابستہ لوگوں کی ذات اس صنعت میں کتنا اہم کاردار ادا کرتی ہے۔ ہم سماجی طور پر لوگوں کو تنہا کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ہم ذات کی بات کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں بہت بڑا صدمہ لگا ہے اور ہم بہت پریشان بھی ہیں۔ ہم نے یہ دستاویزی فلم سنہ 2014 میں اگست اور ستمبر کے درمیان بنائی تھی اور اس وقت مہاراشٹر کی حکومت کی جانب سے ریاست میں گائے کے گوشت پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔‘

مسٹر آنند نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں اس فلم کو بنانے میں تقریباً تین ماہ لگ گئے۔اس فلم کو بنانے کا فیصلہ تب کیا گیا جب سنہ 2014 میں ہمارے کیمپس میں ایک جھگڑے کے بعد کچھ طالب علموں نے گائے کے گوشت اور سور کے گوشت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔‘

منوج میتھیوز نے اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ وزارت اطلاعات و نشریات کے حکام نے ان سے کہا تھا کہ ’گوشت پر پابندی کے معاملے پر موجودہ سیاسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس دستاویزی فلم کو چلانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

لیکن دوسری جانب وزارت کے حکام نے اخبار بتایا کہ انھیں دستاویزی فلم کے بارے میں ’مناسب معلومات‘ نہیں دی گئی تھیں اور یہ کہ اگر انھیں ضروری معلومات مل جاتی ہیں تو وہ اپنے فیصلے پر غور کر سکتے ہیں۔

ایک دوسرے واقعے میں شمالی بھارتی ریاست ہریانہ میں حکام نے ایک سرکاری رسالے میں گائے کے گوشت کے غذائیت سے بھرپور ہونے کے بارے میں ایک مضمون شائع کرنے پر رسالے کے مدیر کو نوکری سے نکال دیا ہے۔

اسی بارے میں