کشمیر: ’معصوموں کا قتل کب تک جائز رہے گا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لوگوں کا مطالبہ ہے کہ قصوروار فوجیوں کو عوام کے سامنے لایا جائے اور سول کورٹ میں ان پر مقدمہ چلایا جائے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دو طالب علموں کی پہلی برسی پر متاثرین احتجاج کر رہے ہیں۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں گذشتہ برس تین نومبر کو فوج نے ایک چوکی کے قریب کار پر فائرنگ کی جس میں دو نوجوان برہان اور معراج ہلاک ہو گئے۔

مظاہروں کا دائرہ پھیلنے لگا تو فوج نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور ایک افسر سمیت نو فوجی اہلکاروں کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف کورٹ مارشل کی سفارش کی گئی ہے۔ جموں میں تعینات فوج کی شمالی کمان کا کہنا ہے کہ ’اس سفارش پر مشاورت ہو رہی ہے۔‘

بھارت کشمیر میں ظالمانہ قوانین ختم کرے: ایمنسٹی

کشمیر میں پراسرار ہلاکتوں سے خوف

کشمیر میں فوج کو لامحدود اختیارات کیوں؟

ایک سال گزرنے کے بعد اس واقعے کے متاثرین کہتے ہیں کہ پولیس، فوج، ریاستی حکومت یا دہلی میں نریندر مودی کی حکومت پر سے ان کا اعتماد اُٹھ چکا ہے۔

15 سالہ برہان کے والد محمد یوسف ڈار کہتے ہیں: ’صرف بولتے ہیں کورٹ مارشل کیا۔ کہاں ہے کورٹ مارشل، کس کا کورٹ مارشل کیا۔ ارے صاحب وہ فوجی تو کسی کیمپ میں ہوگا، یا گھر میں آرام کر رہا ہو گا۔ میں پوچھتا ہوں یہاں معصوم کا قتل کب تک جائز رہے گا؟‘

اس واقعے میں مارے جانے والے ایک اور نوجوان معراج الدین کی بہن کہتی ہیں: ’ہم کو دس لاکھ روپے کی پیشکش کی گئی۔ بولا سرکاری نوکری دیں گے۔ ہمیں نوکری یا پیسہ نہیں انصاف چاہیے۔ میرا بھائی بندوق لے کر نہیں کتابیں لے کر جا رہا تھا۔ ایک سال ہو گیا، کسی نے پوچھا ہمیں؟ ہم انصاف کے لیے لڑتے رہیں گے۔‘

محمد یوسف ڈار کا کہنا ہے کہ جب حکومت نے ریاستی سرکار کی طرف سرکاری معاوضے کا اعلان کیا تو کیس کی نوعیت جاننے کے لیے تحصیل دار کے پاس گئے لیکن وہاں ان سے رشوت طلب کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’ پولیس، فوج، ریاستی حکومت یا دہلی میں نریندر مودی کی حکومت پر سے ان کا اعتماد اُٹھ چکا ہے‘

ان کا کہنا ہے کہ فوج سے کورٹ مارشل کے بارے معلومات لینے جب وہ فوجی ہیڈکوارٹر پر پہنچے تو انھیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

گذشتہ 25 سال میں یہ پہلاموقعہ ہے کہ فوج نے ایسی کسی واردات میں تین ہفتوں کے اندر اندر تحقیقات مکمل کی ہوں اور غلطی کا اعتراف کیا ہو۔

لیکن متاثرین کہتے ہیں کہ قصوروار فوجیوں کو عوام کے سامنے لایا جائے اور سول کورٹ میں ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ لیکن یہاں پر نافذ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ جیسے سخت فوجی قانون کی رُو سے قصوروار فوجیوں کا قانونی مواخذہ ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوگام کے مقتول نوجوانوں کے اہل خانہ کو مکمل انصاف کی امید نہیں ہے۔

متاثرہ خاندانوں کے کئی افراد کہتے ہیں: ’اگر یہ لوگ خود مانتے ہیں کہ ہمارے نہتے بچوں پر نو فوجیوں نے فائرنگ کی، تو ان قصورواروں کو میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے لایا جائے اور پھر ان کے خلاف یہاں کی عوامی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ ہم کو نقد معاوضہ یا ہمدردی کے بیانات نہیں مکمل انصاف چاہیے۔‘

واضح رہے کہ 2010 میں ایک فرضی تصادم میں فوج نے تین نوجوانوں کا قتل کیا تھا۔ اس سلسلے میں حالیہ دنوں فوج کی ایک عدالت نے پانچ اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption 2010 میں ایک فرضی تصادم میں فوج نے تین نوجوانوں کا قتل کیا تھا

تین نومبر کی شب سری نگر کے نواحی علاقہ نوگام کے رہنے والے پانچ دوست ایک کار میں عاشورہ کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے۔

ضلع بڈگام کے چھیترگام میں ہونے والی اس تقریب سے واپسی کے دوران ایک فوجی چیک پوائنٹ پر فوجی اہلکاروں نے کار پر فائرنگ کی جس میں 15 سالہ برہان اور 17 سالہ معراج مارے گئے۔ اس واقعے کے خلاف چار روز تک احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔

قابل ذکر ہے اس سال جولائی میں حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ ایسے واقعات میں انصاف ناممکن ہے کیونکہ 25 سال سے کشمیر میں آرمڈفورسز سپیشل پاورز ایکٹ نام کا فوجی قانون نافذ ہے۔

اس قانون کی رُو سے کسی بھی قصوروار فوجی یا نیم فوجی کا عدالتی مواخذہ ممکن نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق فوج نے اعتراف کیا ہے کہ اسے زیادتیوں کی ڈیڑھ ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں، لیکن اس میں سے صرف 54 کو درست مان کر 129 فوجیوں کا کورٹ مارشل کیا گیا۔ لیکن سزایافتہ فوجیوں کے نام کبھی مشتہر نہیں کیے گئے۔

اسی بارے میں