بھارت میں فاشزم آنے کو ہے!

Image caption مارکنڈے کاٹجو سپریم کورٹ کے سابق جج ہیں

میرے خیال سے بھارت میں کسی نہ کسی قسم کا فاشزم ناگزیر طور پر آنے والا ہے جس کے نتیجے میں جمہوریت، اظہار رائے اور پریس کی آزادی اور شہری آزادی کو کچل دیا جائے گا۔

ان حقائق پر نظر ڈالیں:

موجودہ حکومت وکاس یا ترقی کے نعرے کے ساتھ برسراقتدار آئی۔ جس کا مطلب یہ ہے یا کم از کم یہ سمجھا گيا اب لاکھوں نوجوان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، تاجروں اور دوسروں کے فائدے کے لیے صنعتی ترقی ہوگي اور عمومی طور پر خوش حالی آئے گي۔

Image caption بھارت میں غربت اور بے روزگاری کے خلاف پہلے بھی مظاہرے ہوتے رہے ہیں

حکومت کو آئے ہوئے تقریباً ڈیڑھ سال ہو چکے ہیں لیکن ترقی کا کوئی نام نشان نظر نہیں آتا بلکہ اس کی جگہ صفائی مہم، گھر واپسی، گڈ گورننس ڈے، یوگا ڈے جیسے کرتب نظر آتے ہیں۔

لیکن ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کی موجودہ معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں مزید، کساد بازاری، بے روزگاری، غذائیت کی کمی، ہیلتھ کیئر کی کمی، کسانوں کی خودکشی اور عام غربت میں اضافہ ہو گا۔ البتہ چند تاجروں کو ضرور فائدہ پہنچے گا۔ دال اور پیاز جیسی ضروری اشیا کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور ان میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

اس کے نتیجے میں یہ حکومت دن بدن غیر مقبول ہوتی جائے گی۔ اور لوگ بطور خاص نوجوان یہ محسوس کریں گے کہ انھیں ٹھگ لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت ترقی کے نعرے پر برسر اقتدار آئی ہے

ٹھگے جانے کے احساس، شدید معاشی مشکلات، روز افزوں مہنگائي، بے روزگاری، غذائیت کی کمی، کسانوں کی خودکشی اور عام پریشانیوں کے نتیجے میں ملک بھر میں وسیع پیمانے پر احتجاج، پریشانیا اور شورش پیدا ہوں گی۔

ان سے نمٹنے کے لیے وہی کوششیں کی جائیں گی جو پہلے بھی کی جاتی رہی ہیں۔ جیسے عوام کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنا اوراقلیتوں کو پریشانیوں کا سبب قرار دینا جس طرح نازی یہودیوں کو مسائل کی وجہ قرار دیا کرتے تھے۔

آپ کو یاد ہو کہ فاشزم جرمنی اور اٹلی میں روز افزوں مہنگائی اور شدید بے روزگاری کے خلاف زبردست احتجاج کے نتیجے میں سنہ 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں آیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MEAIndia
Image caption بھارت کی موجودہ معاشی پالیسی سے صرف چند لوگوں کو فائدہ پہنچے گا

یہ اقدامات زیادہ دنوں تک موثر ثابت نہیں ہوں گے کیونکہ تھوڑے ہی وقت کے بعد خوراک اور نوکریاں لوگوں کو مذہب سے زیادہ عزیز ہوں گی۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے سخت اقدام کیے جائیں گے دوسرے لفظوں میں ایک قسم کی ایمرجنسی لگائی جائے گی جسے ہم سنہ 1975 سے 1977 کے درمیان دیکھ چکے ہیں جس میں تمام شہری حقوق، اظہار رائے اور پریس کی آزادی اور تمام جمہوری اقدار کو کچل دیا جائے گا۔

یہ فاشزم کون سی شکل لے گا، ابھی یہ بتانا مشکل ہے لیکن میرے خیال سے ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصے کے اندر بھارت میں فاشزم کی آمد ناگزیر ہے۔