’امریکی جہاز جنوبی بحیرۂ چین سے گزرتے رہیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین نے سنہ 2013 میں سپارٹلی میں سمندری چٹانوں کے ایک باہمی متصل سلسلے کو جزیرے کی شکل دی تھی

امریکہ نے کہا ہے کہ اس کے جنگی بحری جہاز جنوبی بحیرۂ چین کے متنازع علاقوں سے دوبارہ گزریں گے اور اس قسم کے آپریشنز سے کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے۔

گائیڈڈ میزائلوں سے لیس امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس لیسن چینی دعوے کے مطابق گذشتہ ہفتے اس کے ملکیتی مصنوعی جزیرے کے قریب آیا تھا۔

چین کی امریکہ کو ’اشتعال انگیز‘ اقدام پر تنبیہ

امریکی جہاز کا متنازع جزیرے کے قریب آنا غیر قانونی ہے: چین

چین نے امریکی جہاز کی آمد کو ’اشتعال انگیز‘ اقدام قرار دیتے ہوئے امریکہ کو آئندہ ایسی کسی حرکت سے باز رہنے کو کہا گیا تھا۔

تاہم منگل کو امریکی پیسیفک کمانڈ کے ایڈمرل ہیری ہیرس نے بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی میں اپنی تقریر میں کہا ہے کہ ’ہم دنیا بھر کے پانیوں میں کئی دہائیوں سے نقل و حرکت کی آزادی کے تحت آپریشنز کر رہے ہیں۔ اس لیے یہ کسی کے لیے بھی باعثِ حیرانی نہیں ہونے چاہییں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہماری فوج ہر اس علاقے پر فضا اور سمندر کے راستے جائے گی جہاں عالمی قانون کے تحت اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے۔ جنوبی بحیرۂ چین کو اس سلسلے میں نہ استثنیٰ ہے اور نہ دیا جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ afp getty
Image caption گائیڈڈ میزائلوں سے لیس امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس لیسن مصنوعی جزیرے کے قریب سے گزرا تھا

ایڈمرل ہیرس کا کہنا ہے کہ اس قسم کی نقل و حرکت کو ’کسی بھی قوم کے لیے دھمکی یا خطرہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔‘

امریکی ایڈمرل نے یہ بیان ایسے موقعے پر دیا ہے جب قومی سلامتی کے امور کے لیے امریکی صدر کے نائب مشیر بین روڈز نے کہا تھا کہ جنوبی بحیرۂ چین میں نقل و حرکت کی آزادی کو یقینی بنانا امریکی مفاد میں ہے۔

چین نے سنہ 2013 میں سپارٹلی میں سمندری چٹانوں کے ایک باہمی متصل سلسلے کو جزیرے کی شکل دی تھی۔

چین کی جانب سے جزیروں کی تعداد بڑھانے پر امریکہ سمیت دیگر ممالک پریشان ہیں۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین متنازع ملکیت والے علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے عسکری طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔

دوسری جانب چین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے استحکام کے لیے اُس کے اقدامات جائز ہیں اور گذشتہ ماہ واشنگٹن میں چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر براک اوباما کے درمیان ملاقات میں چینی صدر نے کہا تھا کہ چین کا ’اس جزیرے پر فوج تعینات‘ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں