افغان طالبان میں قیادت پر اختلافات، نیا دھڑا تشکیل

تصویر کے کاپی رائٹ EPA REUTERS
Image caption ملا برادر کی پاکستان میں گرفتاری کے بعد ملا عمر نے شہری ہوابازی کے سابق وزیر ملا اختر محمد منصور کو اپنی نیابت کی ذمہ داری سونپی تھی

افغان طالبان کی قیادت کے مسئلے پر اختلافات کی نوعیت بظاہر سنگین ہوگئی ہے اور اب ایک دھڑے نے سابق طالبان گورنر ملا محمد رسول کو اپنا قائد بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔

بی بی سی فارسی کے نامہ نگار ہارون نجف زادہ کے مطابق ملا محمد رسول کا انتخاب مغربی افغانستان میں ان کے زیرِ اثر علاقے میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں عمل میں آیا۔

افغان طالبان کی قیادت کے لیے جنگ

افغان طالبان میں اتحاد کے لیے علما کی کوششیں ناکام

تاہم افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس معاملے پر یہ کہتے ہوئے تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے کہ ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

ملا رسول افغانستان پر طالبان کے دورِ حکومت میں صوبہ نمروز کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔

ان کی نیابت کے لیے عبدالمنان نیازی، ملا باز محمد، منصور داد اللہ اور شیر محمد اخوندازادہ کے ناموں کی منظوری دی گئی ہے۔

ان میں سے منصور داد اللہ طالبان کے عسکری کمانڈر ملا داد اللہ کے بھائی ہیں اور سنہ 2007 میں داد اللہ کی امریکی اور برطانوی فوجوں کی مشترکہ آپریشن میں ہلاکت کے بعد جنوبی افغانستان میں طالبان کے کمانڈر مقرر کیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کے بعد سے شدت پسند گروپ کی قیادت کا معاملہ اختلافات کا شکار رہا ہے

ملا محمد رسول کے ایک نائب عبدالمنان نیازی نے ٹیلیفون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مغربی اور جنوبی افغانستان کے متعدد طاقتور کمانڈر ان کے ساتھ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس دھڑے نے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور پر ’لالچی پن‘ کے الزامات بھی لگائے ہیں۔

جولائی میں افغان طالبان کے بانی امیر ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کے بعد سے شدت پسند گروپ کی قیادت کا معاملہ اختلافات کا شکار رہا ہے۔

ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا تاہم ابتدا میں ملا عمر کے بعض حامیوں کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔

طالبان کے نئے امیر کے اصل حریف ملا عمر کے بھائی اور بڑے بیٹے تھے جنھوں نے ملا منصور کی تقرری کے طریقے پر سوالات اُٹھائے تھے۔

تاہم رواں برس ستمبر میں افغان طالبان کا دعویٰ سامنے آیا کہ وہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے نئے رہنما ملا اختر محمد منصور کی سربراہی میں متحد ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اسی بارے میں