کہیں ایوارڈ واپس کرنے کا الٹا اثر نہ ہو؟

تصویر کے کاپی رائٹ K.Satchidanandan.Imran Quereshi.BBC
Image caption ایوارڈ لوٹانے کا چلن ایک زمانے سے رائج ہے لیکن حالیہ سلسلہ ایک بڑا سیاسی پیغام ہے

میرے خیال میں تقریباً ہر مصنف اور آرٹسٹ یہ کہلانا پسند کرتا ہے کہ وہ غیر سیاسی ہے لیکن تخلیقی صلاحیتیں خلا میں نہیں پیدا ہوتیں۔ ہر طرح کی تخلیق میں سیاست کا کچھ نہ کچھ عنصر ضرور ہوتا ہے اور بھارت میں ایوارڈ واپس کرنے کا سلسلہ دانشوروں کی جانب سے ایک طرح کا سخت سیاسی پیغام ہے۔

امریکی ناول نگار ٹونی موریسن نے ایک جگہ کتنا درست لکھا تھا ’جو لوگ ’سٹیٹس کو‘ کو پسند کرتے ہیں اور سیاسی نہ ہونے کی بہت زیادہ کوشش کرتے ہیں، وہ اصل میں سیاسی فکر والے افراد ہوتے ہیں۔‘

’کیا تاج محل کو بھی توڑ دیں گے؟‘

مودی حکومت کے خلاف بطورِ احتجاج ایوارڈ واپس

ساہتیہ اکیڈمی یا پدم ایوارڈز واپس کرنے والے لوگوں کی حمایت یا مخالفت میں بہت سے دلائل دیے جا سکتے ہیں لیکن یہ بات اکثر لوگ تسلیم کریں گے کہ ان کے ان اقدام نے ملک میں روز افزوں عدم رواداری کی جانب سب کی توجہ ضرور مرکوز کی ہے۔

Image caption بھارت میں سب سے پہلے ربندر ناتھ ٹیگور نے سر کا خطاب واپس کیا تھا

انعام واپس کرنے کی ابتدا ہندوستانی دانشور رابندر ناتھ ٹیگور نے کی تھی جب انھوں نے جلياں والا باغ واقعے کے خلاف بطور احتجاج انگریزوں کی جانب سے دیا جانے والا نائٹ ہڈ یعنی سر کا خطاب واپس کر دیا تھا۔

جہاں تک پدم ایوارڈز کی بات ہے پہلے بھی بہت سے لوگوں نے حکومت کے کسی قدم کے خلاف یا تو اسے واپس کیا ہے یا اسے لینے سے انکار کیا ہے۔

معروف مصنف خوشونت سنگھ نے ’آپریشن بلیو سٹار‘ کی مخالفت میں اپنا پدم بھوشن واپس کر دیا تھا۔

ڈرامے کے شعبے کی معروف شخصیت رتن تھیم نے ناگا جنگ بندی میں توسیع کی مخالفت میں سنہ 2001 میں اپنے پدم شری ایوارڈ کو واپس کر دیا تھا۔

پدم ایوارڈز کی جانبداری پر شروع سے ہی سوال کیے جاتے رہے ہیں۔ اس پر پہلا سوال سنہ 1950 کی دہائی میں اس وقت کے وزیر تعلیم مولانا آزاد نے اٹھایا تھا جب انھوں نے خود کو بھارت رتن دیے جانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایوارڈ کا انتخاب کرنے والے لوگ خود کو ہی ایوارڈ دینے کا حق نہیں رکھتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ photodivision.gov.in
Image caption مولانا ابوالکلام آزاد نے یہ کہتے ہوئے بھارت رتن لینے سے انکار کر دیا تھا کہ انعام دینے والے خود انعام نہیں رکھ سکتے

ایسی مثالیں تقریبا نہیں کے برابر ہیں جب کسی حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کو اس اعزاز کے لیے منتخب کیا ہو۔

اس میں ایک استثنی ہے کہ جب سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کی قیادت والی حکومت نے اپوزیشن پارٹی کے اٹل بہاری واجپئی کو پدموبھوش دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

جے پرکاش نارائن اور رام منوہر لوہیا جیسے لوگ ان ایوارڈز سے اس لیے محروم رہ گئے کیونکہ اس وقت کی حکومت ان کے حق میں نہیں تھی۔

کانگریس لیڈر ششی تھرور کا کہنا ہے کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قابل مذمت ضرور ہے لیکن احتجاج کرنے کا یہ انداز حکومت کی نہیں بلکہ ایوارڈز کی تذلیل کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UDAY PRAKASH FACEBOOK BBC IMRAN QURESHI ASHOK VAJPAYEE
Image caption ان لوگوں نے بھارت میں عدم رواداری پر خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایوارڈ واپس کیے

ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والے شنكھيہ گھوش کہتے ہیں کہ ایوارڈ واپس کرنے والے لوگ دوسرے طریقے سے اپنے احتجاج کا اظہار کر سکتے تھے کیونکہ ساہتیہ اکیڈمی سرکاری ادارہ نہیں ہے۔

ادیبوں کا ایوارڈ واپس کرنے کا فیصلہ حکومت کو کچھ سوچنے پر مجبور کرے یا نہ کرے لیکن اس نے ان انعامات کے سیاسی ہونے کے خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اب حکومت یا ساہتیہ اکیڈمی جیسے خود مختار ادارے اس طرح کا ایوارڈ دینے سے پہلے ان باتوں پر بھی غور کریں گے کہ اسے حاصل کرنے والے شخص کی سیاسی وابستگی کیا ہے؟

ایسا تو نہیں کہ یہ شخص ایوارڈ واپس کر کے حکومت کو شرمسار کر دے گا؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو صلاحیتوں کو نظر انداز کیا جائے گا اور اوسط درجے کی کارکردگی اور درباری ثقافت کو فروغ ملے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption بھارتی پارلیمان ششی تھرور کا کہنا ہے کہ اس طرح اعزاز واپس کرنا اعزاز کی تذلیل ہے

اس صورت حال میں پہلے سے ہی سوالوں کے دائرے میں آنے والے ایوارڈز کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچے گا۔ صرف ایک سیاسی نظریے کے لوگوں کو اس طرح کا اعزاز ملنا ان کو اور بھی مضحکہ خیز بنا دے گا۔

مودی حکومت نے کئی خود مختار اور ثقافتی اداروں کی کمان مخصوص نظریے کے حامل لوگوں کو دے کر اس کی ابتدا کر دی ہے۔

انڈین کونسل آف ہسٹاریکل ریسرچ کے سربراہ کے عہدے پر سدرشن راؤ، قومی بک ٹرسٹ کے سربراہ کے طور پر اخبار کے سابق ایڈیٹر بلدیو شرما کی تقرری اور پونے فلم انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کے عہدے پر گجیندر چوہان کا لایا جانا اس کی چند نمایاں مثالیں ہیں۔

اگر قومی، ادبی اور فلم ایوارڈز کو بھی سیاست کے شیشے سے دیکھا جانے لگا تو ان کی رہی سہی اہمیت اور معنویت بھی جاتی رہے گی۔

اسی بارے میں