میگی نوڈلز کی ’واپسی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیسلے ماضی میں میگی نوڈلز کے 40 کروڑ پیکٹ ضائع کر چکی ہے

کھانے پینے کی مصنوعات بنانے والی کمپنی نیسلے کا کہنا ہے کہ کمپنی کی مقبول خوراک میگی نوڈلز غالباً نومبر میں بھارت میں فروخت کے لیے دوبارہ دستیاب ہوں گی۔

نیسلے انڈیا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میگی نوڈلز کے تازہ نمونے کھانے کے لیے محفوظ ہیں کیونکہ تجزیے کے نتیجے میں ان میں سیسے کی مقدار مقررہ حد سے بہت کم پائی گئی ہے۔

نیسلے نے میگی نوڈلز پر پابندی کو چیلنج کر دیا

دہلی میں بھی میگی نوڈلز میں سیسہ

اس سے قبل موجودہ نمونوں پر کیے گئے تجزیوں نے انھیں محفوظ قرار دیا تھا اس لیے اس تازہ تجزیے کے بعد نوڈلز کی مارکیٹ واپسی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

جب تجزیہ کرنے کے بعد نوڈلز میں سیسے کی مقدار قانونی حدود سے باہر پائی گئی تو نیسلے نے حکومت کی جانب سے نوڈلز پر عائد کردہ پابندی کو چیلنج کر دیا تھا۔

میگی نوڈلز بھارت میں سنہ 1983 میں متعارف کروائی گئی تھیں اور ملک میں ہر جگہ دستیاب ہیں۔

نیسلے انڈیا کا کہنا ہے کہ اُسے ممبئی ہائی کورٹ کی طرف سے اپنی مصنوعات کا لازمی تجزیہ کروانے کا حکم دیا گیا تھا۔

کمپنی نے کہا کہ اگست میں اس نے حکومت سے منظوری حاصل کرنے والی تین لیبارٹریوں سے اپنی نوڈلز کا تجزیہ کروایا جس کے نتائج میں نوڈلز محفوظ پائی گئی تھیں۔

نیسلے نے بیان میں کہا کہ اس نے’قومی اور بین الاقوامی تسلیم شدہ لیبارٹریوں میں 20 کروڑ نوڈل کے پیکٹوں کے 3500 دفعہ تجزیے‘ خود کروائے تھے جن کے بعد تمام نتائج ٹھیک آئے تھے۔

کمپنی نے مزید کہا ہے کہ ’جن محکموں سے اجازت لینا ضروری ہے کمپنی ان کے ساتھ تعاون جاری رکھ رہی ہے اور اس ماہ میگی نوڈلز کی فروخت شروع کرنے کی کوشش کرے گی۔‘

بھارت کے فوڈ سیفٹی اور معیار کے ادارے (ایف ایس ایس اے آئی) نے ماضی میں معروف نوڈلز پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کر دی تھی کہ ان میں سیسے کی غیر محفوظ اور خطرناک مقدار پائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ بھارت نے علیحدہ سے نیسلے کے خلاف’غیر منصفانہ تجارتی طریقے استعمال کرنے پر‘ دس کروڑ ڈالر کا دعویٰ کر دیا تھا۔

بھارت میں نوڈلز کی مارکیٹ میں نیسلے کا 80 فیصد حصہ ہے۔

نیسلے ماضی میں میگی نوڈلز کے 40 کروڑ پیکٹ ضائع کر چکی ہے۔

اسی بارے میں