اروندھتی رائے نے بھی ایوارڈ لوٹا دیا

ادبی ایوارڈ ’بُکرز پرائز‘ جیتنے والی معروف بھارتی ادیبہ، فلم ساز اور کالم نگار اروندھتی رائے نے کہا ہے کہ حال ہی میں ملک میں ہونے والے ’ہولناک قتل‘ کے واقعات کی وجہ سے وہ اپنا قومی ایوارڈ واپس کر رہی ہیں۔

اس حوالے سے اروندھتی رائے کا کہنا تھا کہ ’ ایوارڈ واپس کرنے سے میں بھی اس سیاسی تحریک کا حصہ بن گئی ہوں جس کا آغاز ملک کے ادیبوں اور فلم سازوں نے کیا ہے۔‘

یاد رہے کہ اب تک بھارت میں 100 سے زیادہ ادیبوں اور عوامی شخصیات نے ’انڈیا میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری ‘ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنےایوارڈ واپس کر دیے ہیں۔

ان شخصیات کی جانب سے حکومتی ایوارڈوں کی واپسی کا عمل حال ہی میں بھارت میں منظرعام پر آنے والے واقعات ہیں جن میں سکالروں، ادیبوں اور ماہرین تعلیم کے قتل بھی شامل ہیں۔

بالی وڈ کے مشہور اداکار شاہ رخ خان بھی بھارت میں ’انتہا کی عدم رواداری‘ پر کھلے الفاظ میں تنقید کر چکے ہیں۔

اروندھتی رائے کے علاوہ 42 دیگر فلم سازوں نے بھی اپنے ایوارڈز واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو ہی بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں مسلمانوں نے پیر کو ہندوؤں کے ایک مشتعل گروہ کے ہاتھوں ایک مسلمان کی موت کے خلاف عام ہڑتال بھی کی۔ گروہ کا کہنا تھا کہ مذکورہ شخص ایک گائے چرانے کی کوشش کر رہا تھا۔

چھ ہفتوں کے دوران بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں قتل کیے جانے والا یہ تیسرا شخص تھا۔

’نظریاتی مکّاری‘

جمعرات کو وفاق اور ریاستوں کی جانب سے دیے گئے ایوارڈز لوٹانے والے سائنسدانوں، تاریخ دانوں اور فلم سازوں کا اپنے اس رد عمل کے بارے میں کہنا تھا کہ انھوں نے یہ قدم عقلیت پسند ادیبوں ایم ایم کلبرگی اور گووِند پنسارے کے قتل اور مبینہ طور پر گائے کا گوشت کھانے والے ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اٹھایا ہے، کیونکہ یہ واقعات بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کی مثالیں ہیں۔

اروندھتی رائے نے جو ایوارڈ لوٹایا ہے وہ سنہ 1989 میں ایک فلم کا سکرپٹ لکھنے پر دیا گیا تھا۔

ایوارڈ واپس کرنے کے فیصلے کے حوالے سے 55 سال ادیبہ نے روزنامہ انڈین ایکسپریس میں ایک مضمون میں اس فیصلے کی وجوہات بھی بیان کی ہیں۔

’یہ ایوارڈ واپس کرنے کے فیصلے سے میں بھی اس سیاسی تحریک میں شامل ہو گئی ہوں جس کا آغاز ادیبوں، فلم سازوں اور ماہرین تعلیم نے کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے نظریاتی مکّاری اور ہماری مجموعی سوچ پر حملے کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اگر آج ہم اس حملے کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو یہ ہمیں ریزہ ریزہ کر دے گا اور بہت گہرا دفن کر دے گا۔‘

اروندھتی رائے کا کہنا تھا کہ ادیبوں اور عقلیت پسندوں کی موجودہ تحریک ایک ایسی تحریک ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

’مجھے بہت فخر ہے کہ میں اس تحریک کا حصہ ہوں۔ اور جو کچھ اِس ملک میں آج کل ہو رہا ہے میں اس پر انتہائی شرمندہ ہوں۔‘

اروندھتی رائے کے مضمون کے جواب میں ٹوئٹر پر بہت سے لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں جن میں سے کئی لوگوں نے ان کے حوصلے کو سراہا ہے جبکہ کئی دیگر نے انھیں شدید تنقید کا بھی نشانہ بنایا ہے۔

اسی بارے میں