گائے چوری کا الزام، مسلمان شہری کی ہلاکت پر احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Mansi Thapliyal

بھارت کی ریاست منی پور میں گائے کی چوری کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں ایک مسلمان شہری کی ہلاکت کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

پیر کو اچےكون لائی موريبا گاؤں کے کچھ لوگوں نے گائے چوری کا الزام لگاتے ہوئے مقامی مدرسے کے معلم 55 سالہ محمد حشمت علی عرف بابو کو زبردستی گھر سے اٹھا لیا۔

بعد میں ہجوم نے انھیں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔

دادری: ’ہجوم کا ردعمل نہیں باقاعدہ منصوبہ بندی تھی‘

گائے صرف بہانہ ہے، اصل نشانہ تو مسلمان ہیں

گائے کی سمگلنگ کے الزام میں ایک اور شخص کا قتل

محمد حشمت کی ہلاکت کے خلاف کئی مسلم تنظیموں نے جمعرات کو ریاست منی پور میں شڑ ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔

متاثرہ خاندان نے قتل کی رپورٹ مقامی ارلبگ تھانے میں درج کرائی ہے۔ پولیس نے گائے کے مالک كھمللمبام کو گرفتار کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ستمبر میں ماہ دہلی سی متصل دادری میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ہجوم نے 50 برس کے محمد اخلاق مار ڈالا تھا

ارلبگ تھانہ انچارج شرت سنگھ نے بتایا کہ ’جمعرات کو مظاہرین ملزمان کی گرفتاری کے لیے تھانے کے سامنے احتجاج کر رہے تھے اور انھیں وہاں سے منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا جس میں 15 افراد زخمی ہو گئے جنھیں مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

مسلمان تنظیموں نے محمد حشمت کے قتل کا موازنہ دادری واقعے سے کرتے ہوئے حکومت اور پولیس پر فوری طور پر کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

مسلمان کی ایک تنظیم کے کنوینر محمد رذاد دين نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ’حشمت علی مقامی مدرسے میں استاد تھے اور کافی ایماندار اور شریف شخص تھے۔ لیکن ان پر بغیر کسی ثبوت کے گائے چوری کا الزام لگا کر ان کی قتل کر دیا گیا۔ پولیس اس معاملے کو بالکل سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔ پیر کو پیش آنے والے اس واقعے کے قصورواروں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں حالیہ دنوں اس طرح کے واقعات پر کئی حلقوں کی جانب سے ایس پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے

منی پور میں گوماس فروخت اور کھانے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور گوماس بازار میں کھلے عام فروخت کیا جاتا ہے۔

بھارت میں حالیہ دنوں ہندؤں کی جانب سے مسلمانوں پر گائے کا گوشت کھانے کے الزام یا اس کی سمگلنگ کے الزامات پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ستمبر میں ماہ دہلی سی متصل دادری میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر گاؤں والوں نے ایک مسلمان خاندان پر حملہ کر دیا تھا۔ اس واقعے میں 50 برس کے محمد اخلاق کی موت ہوگئی تھی

اسی بارے میں